🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة فاطر
اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیۡبِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۳۸﴾
بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں جاننے والا ہے، بے شک وہ سینوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔[38]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
38۔ اللہ تعالیٰ یقیناً آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کو جاننے والا ہے۔ وہ تو دلوں کے راز [42] تک خوب جانتا ہے۔
[42] یعنی وہ ان فریاد کرنے والے اہل دوزخ کے متعلق خوب جانتا ہے کہ وہ اب بھی جھوٹ بک رہے ہیں۔ ان کی افتاد طبع ہی ایسی ہے کہ اگر انہیں دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو اپنی خباثتوں اور شرارتوں سے کبھی باز نہ آئیں گے جیسا کہ سورۃ انعام میں فرمایا: ﴿وَلَوْرُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نهُوْا عَنْهُ وَإنَّهُمْ لَكَاذِبُوْنَ﴾ [6: 28]