🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة يس
اِنۡ کَانَتۡ اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمۡ جَمِیۡعٌ لَّدَیۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ﴿۵۳﴾
نہیں ہوگی مگر ایک ہی چیخ، تو اچانک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے ہوئے ہوں گے۔[53]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
53۔ وہ بس ایک ہی گرجدار آواز ہو گی پھر وہ فوراً سب کے سب [51] ہمارے حضور پیش کر دیئے جائیں گے
[51] جب انہیں صحیح صورت حال کا علم ہو جائے گا تو فرشتے انہیں دھکیل کر میدان محشر کی طرف لے جائیں گے اور وہ مجرموں کی طرح اللہ کے حضور جواب دہی کے لئے پیش کر دیئے جائیں گے۔ اور ساتھ ہی انہیں یہ بتا دیا جائے گا کہ تم دنیا میں جیسے اعمال کر کے آئے ہو ویسا ہی تمہیں بدلہ دیا جائے گا تاہم یہ یقین رکھو کہ تمہیں تمہارے جرائم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔