🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة يس
لَہُمۡ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ وَّ لَہُمۡ مَّا یَدَّعُوۡنَ ﴿ۚۖ۵۷﴾
ان کے لیے اس میں بہت پھل ہے اور ان کے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو وہ طلب کریں گے۔[57]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
57۔ وہاں انہیں کھانے کو میوے بھی ملیں گے اور جو کچھ وہ طلب کریں گے [52] وہ بھی ملے گا
[52] یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق مجرموں کے ساتھ اپنے فرمانبرداروں کا اور ان کے حسن اجر کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ مجرموں سے ابھی جواب طلبی اور حساب لینے کا کام باقی ہو گا مگر اس وقت اہل جنت، جنت میں داخل ہو چکے ہوں گے۔ ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جو بلا حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے اور بعض دوسروں سے آسان اور سرسری سا حساب لے کر انہیں جنت میں داخل کیا جا چکا ہو گا۔ وہاں وہ خوشحال زندگی گزار رہے ہوں گے۔ ٹھنڈی چھاؤں میں ان کے تخت بچھائے گئے ہوں گے وہ اور ان کی بیویاں آمنے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے اور پھل ان کے پاس حاضر ہوں گے۔ علاوہ ازیں جس چیز کی بھی وہ آرزو کریں گے فوراً حاضر کر دی جائے گی۔