🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الصافات
قَالَ ہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّطَّلِعُوۡنَ ﴿۵۴﴾
کہے گا کیا تم جھانک کر دیکھنے والے ہو؟[54]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
54۔ پھر کہے [31] گا: کیا تم اس کا حال معلوم کرنا چاہتے ہو؟
[31] یہ جملہ اللہ تعالیٰ کا کلام بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا۔ کہ جب اہل جنت آپس میں محو گفتگو ہوں گے اور ان میں سے ایک اپنے دنیا دار ساتھی کی سرگزشت سنائے گا تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: کیا تم اس کے حالات معلوم کرنا چاہتے ہو؟ اور سرگزشت بیان کرنے والے کا اپنا کلام بھی ہو سکتا ہے اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آؤ ذرا اس کا حال تو معلوم کریں۔