🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الزمر
لَہُمۡ مِّنۡ فَوۡقِہِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنۡ تَحۡتِہِمۡ ظُلَلٌ ؕ ذٰلِکَ یُخَوِّفُ اللّٰہُ بِہٖ عِبَادَہٗ ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴿۱۶﴾
ان کے لیے ان کے اوپر سے آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی سائبان ہوں گے۔ یہ ہے وہ جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اے میرے بندو! پس تم مجھ سے ڈرو۔[16]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
16۔ ان کے اوپر بھی آگ کے سائبان [25] ہوں گے اور ان کے نیچے بھی۔ اسی بات سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ اے میرے بندو! مجھ سے ڈرتے رہو
[25] ﴿ظلل﴾ ﴿ظلة﴾ کی جمع ہے جس کے معنی سایہ بھی ہے، بادل بھی اور ایسا خیمہ یا سائبان بھی جس کی صرف چھت ہی چھت ہو، دیواریں نہ ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے صریح خسارہ پانے والوں کی سزا یہ ہو گی جیسے ان کے اوپر آگ کی گھٹا چھا رہی ہو اور ان کے نیچے سے بھی ایسی آگ کی گھٹا اٹھ رہی ہو اور انہیں دونوں طرف سے اپنی لپیٹ میں لے لے۔