🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الزمر
وَ لَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿ۚ۲۷﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کی ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔[27]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
27۔ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثالیں [42] بیان کر دی ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔
[42] اس سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہم نے شرک کی تردید میں ہر طرح کی مثالیں دلائل کے ساتھ پیش کر دی ہیں تاکہ لوگوں کو اصل حقیقت سمجھنے میں کوئی دشواری نہ رہے اور اس سے مراد دین کی سب ضروری باتیں بھی ہو سکتی ہیں جن میں اوامر و نواہی بھی شامل ہیں۔ ایسی بنیادی باتیں سب قرآن میں موجود ہیں اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا مطلب اور مفہوم پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ یعنی ہر شخص کو دین سے متعلق جملہ ہدایات کتاب و سنت سے مل سکتی ہیں۔ اور اسے اپنے دین کی حفاظت کے لئے قرآن کریم اور حدیث کافی ہے۔