اور تو فرشتوں کو دیکھے گا عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہو ئے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا ا ور کہا جائے گا کہ سب تعریف ا للہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔[75]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
75۔ نیز (اس دن) آپ دیکھیں گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ باندھے، اپنے پروردگار کی تعریف [96] کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ اور لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور سب کہیں گے کہ: ”سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“
[96] دربار برخواست ہونے پر ﴿الحمد لله﴾ رب العالمین کی صدائیں:۔
یعنی جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے میدان محشر میں نزول اجلال فرمائے گا اس وقت فرشتے اللہ تعالیٰ کے عرش کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوں گے۔ اور جب اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان علی رؤس الاشہاد مبنی بر انصاف فیصلہ فرما چکے گا تو ہر طرف سے جوش و خروش کے ساتھ ﴿ألْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ﴾ کا نعرہ بلند ہو گا۔ اسی نعرہ تحسین پر اللہ تعالیٰ کا دربار برخاست ہو گا۔ پھر تمام لوگوں کو ان کے فیصلہ کے مطابق ان کے ٹھکانوں پر بھیج دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ دن موجودہ دن رات کے حساب سے پچاس ہزار برس کا ہوگا۔