🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الشوريٰ
لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ ﴿۴﴾
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی بے حد بلند، بڑی عظمت والا ہے۔[4]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
4۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور وہ عالی شان [2] اور عظمت والا ہے۔
[2] مملوک الٰہ نہیں ہو سکتا:۔

اس آیت میں بتوں یا ماسوا اللہ کی خدائی کا عقلی دلیل سے رد پیش کیا گیا ہے کہ خالق ارض و سماء تو اللہ کی ذات ہے۔ وہ ان سب چیزوں کا مالک اور وہ چیزیں اس کی مخلوق اور اس کی ملکیت ہیں اور وہ اس تمام کائنات سے بلند تر اور بزرگ تر ہے۔ پھر بھلا اس کی مخلوق کو، اس کی مملوکہ چیز کو اس کے مقابلہ میں حقیر ترین مخلوق کو اس کا شریک کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ اور اس کے اختیارات و تصرفات میں ان چیزوں کو کیسے حصہ دار سمجھا جا سکتا ہے؟