🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الزخرف
فَاسۡتَمۡسِکۡ بِالَّذِیۡۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۴۳﴾
پس تو اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھ جو تیری طرف وحی کیا گیا ہے، یقینا تو سیدھے راستے پر ہے۔[43]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
43۔ آپ بس (اس کتاب کو) مضبوطی سے تھامے رکھئے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے۔ آپ یقیناً سیدھی [42] راہ پر ہیں
[42] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ فکر چھوڑ دیجئے کہ ان مشرکوں پر اللہ کا عذاب کب نازل ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ ہماری حکمت اور صوابدید پر منحصر ہے۔ نہ آپ یہ فکر کریں کہ اسلام کو کب غلبہ نصیب ہو گا۔ آپ کے اطمینان کے لیے یہی بات کافی ہے کہ آپ ٹھیک راہ پر جارہے ہیں۔ بس اتنا کیجئے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے ساتھ کے ساتھ جو ہدایات مل رہی ہیں ٹھیک اس کے مطابق عمل کرتے جائیے اور یہ بات اللہ پر چھوڑ دیجئے کہ وہ کب باطل کا سر کچلتا ہے اور حق کو غلبہ نصیب فرماتا ہے۔