🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الزخرف
وَ قَالُوۡۤاءَ اٰلِہَتُنَا خَیۡرٌ اَمۡ ہُوَ ؕ مَا ضَرَبُوۡہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ خَصِمُوۡنَ ﴿۵۸﴾
اور انھوں نے کہا کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ؟ انھوں نے تیرے لیے یہ (مثال) صرف جھگڑنے ہی کے لیے بیان کی ہے، بلکہ وہ جھگڑالو لوگ ہیں۔[58]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
58۔ اور کہنے لگے: کیا ہمارے الٰہ اچھے ہوئے [56] یا وہ (عیسیٰ)؟ وہ آپ کے سامنے یہ مثال صرف کج بحثی کی خاطر لائے ہیں۔ بلکہ یہ ہیں ہی جھگڑالو [57] قوم
[56] مشرکین مکہ نے غل یہ مچایا تھا کہ اللہ کے سوا سارے ہی معبود جہنم کا ایندھن بنیں گے تو پھر سیدنا عیسیٰؑ ہمارے معبودوں سے اچھے کیسے ہوئے اور ہمارے معبود ان سے کمتر کیسے ہوئے؟ پھر تو ہم اپنے ہی معبودوں کو اچھا کہیں گے۔

[57] یعنی مشرکین ایسی بحث اس لیے نہیں چھیڑتے کہ اگر انہیں معقول جواب مل جائے تو اسے تسلیم کر لیں گے۔ بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ ایسی کج بحثی ان کی فطرت میں داخل ہو چکی ہے۔ اور وہ حق بات کو کج بحثیوں میں الجھا کر لوگوں کو حق کے قریب آنے سے روکنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔