🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الجاثيه
وَ تَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً ۟ کُلُّ اُمَّۃٍ تُدۡعٰۤی اِلٰی کِتٰبِہَا ؕ اَلۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۸﴾
اور تو ہر امت کو گھٹنوں کے بل گری ہوئی دیکھے گا، ہر امت اپنے اعمال نامہ کی طرف بلائی جائے گی، آج تمھیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جوتم کیا کرتے تھے ۔[28]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
28۔ اور آپ ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل پڑا [41] دیکھیں گے۔ ہر گروہ کو اس کے اعمال نامہ کی طرف بلایا جائے گا۔ آج تمہیں ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے۔
[41] یعنی پہلے ہر قسم کے مجرموں کے الگ الگ گروہ بنائے جائیں گے۔ اور قیامت کے مناظر کی دہشت اس قدر زیادہ ہو گی کہ وہ کھڑے نہ رہ سکیں گے اور گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے اور سہمے ہوئے اس انتظار میں ہوں گے کہ ان کے حق میں کیا فیصلہ صادر ہوتا ہے اس وقت متکبروں کی سب اکڑ ختم ہو جائے گی۔