🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الجاثيه
وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۟ اَفَلَمۡ تَکُنۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَاسۡتَکۡبَرۡتُمۡ وَ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾
اور رہے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو کیا میری آیات تمھارے سامنے نہ پڑھی جاتی تھیں؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔[31]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
31۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا (انہیں کہا جائے گا) کیا تمہیں میری آیات پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟ مگر تم اکڑ گئے [44] اور تم تھے ہی مجرم لوگ
[44] یعنی کبر و نخوت تم میں اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ اللہ کی آیات سننا بھی تم اپنی شان سے فروتر سمجھتے تھے۔