اور ان کے لیے ان اعمال کی برائیاں ظاہر ہو جائیں گی جو انھوں نے کیے اور انھیں وہ چیز گھیر لے گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔[33]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
33۔ اس وقت ان پر ان کے اعمال کی برائیاں ظاہر [46] ہونے لگیں گی اور جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہ انہیں آ گھیرے گا۔
[46] یعنی جن چیزوں کو انہوں نے دنیا میں اپنی کامیابی کا معیار سمجھ رکھا تھا اور اس کامیابی کے لیے دنیا میں وہ جو کچھ پاپڑ بیلتے رہے تھے۔ ایسے سب اعمال کے نتائج صرف ان کے سامنے ہی نہیں آئیں گے بلکہ ان کے گلے پڑ جائیں گے۔ اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اپنے آپ کو اللہ کے سامنے غیر جواب وہ سمجھ رکھا تھا وہ ایک ایسی بنیادی غلطی تھی جس کی وجہ سے ان کا پورا کارنامہ حیات غلط ہو کر رہ گیا۔