اور ہم ضرور ہی تمھیں آزمائیں گے،یہاں تک کہ تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمھارے حالات جانچ لیں۔[31]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
31۔ ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے تا آنکہ یہ معلوم [35] کر لیں کہ تم میں سے مجاہد کون ہیں اور صابر کون؟ اور تمہارے احوال کی جانچ پڑتال کریں گے
[35] بدا یعنی اللہ کے حدوث علم کا گمراہ کا کن عقیدہ:۔
﴿لِنَعْلَمَ﴾ کے لفظ سے بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حدوث علم کا شبہ ظاہر کیا۔ یعنی اللہ کو بھی کوئی واقعہ ہو چکنے کے بعد علم ہوتا ہے پہلے نہیں ہوتا۔ حالانکہ بے شمار آیات اللہ تعالیٰ کے ازلی اور کلی علم کی صراحت پیش کرتی ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے الفاظ صرف اس وقت استعمال فرماتے ہیں کہ جبکہ اس علم کا تعلق اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے دیکھنے سے ہو۔ یعنی جہاد کے بغیر بھی اللہ تعالیٰ کفر کا سر توڑ کر مسلمانوں کی مدد کر سکتا تھا۔ لیکن اس طرح کسی کے صبر و استقلال اور ایمان کی آزمائش نہیں ہو سکتی تھی۔ اور نہ ہی مختلف لوگوں کی مختلف طرح کی سرگرمیوں کا پتا لگ سکتا تھا۔