بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی، اس کے بعد کہ ان کے لیے سیدھا راستہ صاف ظاہر ہو گیا، وہ ہرگز اللہ کا کوئی نقصان نہ کریں گے اور عنقریب وہ ان کے اعمال ضائع کر دے گا۔[32]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
32۔ بلا شبہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے (دوسروں کو) روکتے رہے اور ان پر ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کی۔ وہ اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ ایسے لوگوں کے اعمال [36] برباد کر دے گا
[36] یعنی مسلمانوں سے غداری کر کے نہ وہ اللہ کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ اللہ کے رسول اور مسلمانوں کا۔ بلکہ وہ وہ سراسر اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں وہ اس طرح کہ اللہ ان کے سارے منصوبے خاک میں ملا دیتا ہے علاوہ ازیں ان کے کچھ اچھے اعمال بھی برباد ہو جاتے ہیں۔