🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الفتح
وَ لَوۡ قٰتَلَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوَلَّوُا الۡاَدۡبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿۲۲﴾
اور اگر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تم سے لڑتے تو یقینا پیٹھ پھیر جاتے، پھر وہ نہ کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔[22]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
22۔ اگر کافر لوگ تم سے جنگ کرتے تو یقیناً پیٹھ پھیر [33] جاتے۔ پھر وہ کوئی حامی اور مددگار بھی نہ پاتے۔
[33] یعنی اگر کافر میدان حدیبیہ میں مسلمانوں سے بھڑ جاتے تو بھی اللہ اس بات پر قادر تھا کہ کافروں کو مار بھگاتا اور مسلمانوں کو فتح عطا کر دیتا۔ مگر جنگ ہونے کے بجائے صلح ہو جانے میں دوسری کئی مصلحتیں کار فرما تھیں۔ جن کی وجہ سے اللہ نے جنگ نہ ہونے دی۔