بے شک ہم جان چکے ہیں جو کچھ زمین ان میں سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو خوب محفوظ رکھنے والی ہے۔[4]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
4۔ ہم جانتے ہیں کہ زمین ان (کے مردہ اجسام) میں سے کیا کچھ کم کرتی [5] ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے
[5] دوسرے اعتراض کا جواب:۔
حالانکہ ان کا یہ اعتراض محض ان کی کم عقلی اور عدم معرفت الٰہی کی بنا پر ہے۔ وہ اللہ کے علم اور اس کی قدرت کی وسعت کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ پہلی چیز تو یہ ہے کہ ان کی ہر چیز مٹی میں نہیں چلی جاتی بلکہ ان کی روح اللہ کے قبضہ میں چلی جاتی ہے۔ دوسری چیز یہ کہ ان کے جسم کے ذرات اگر مٹی میں مل بھی جائیں تو بھی وہ سب ذرات اللہ کے علم میں ہوتے ہیں۔ اور وہ جب چاہے ان ذرات کو اکٹھا کر کے پھر سے انسان کی شکل دے کر اور اس میں اس کی روح ڈال کر پھر سے زندہ کر سکتا ہے۔ تیسری چیز یہ ہے کہ ان کے ذرات کا اللہ کو علم ہی نہیں بلکہ اس کے پاس ہر چیز پہلے سے لکھی ہوئی بھی موجود اور محفوظ ہے۔ پھر جو چیز علم میں بھی ہو اور ضبط تحریر میں بھی آ چکی ہو، اس کے یقینی ہونے میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے؟