🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الذاريات
اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾
جب وہ اس پر داخل ہوئے تو انھوں نے سلام کہا ۔ اس نے کہا سلام ہو، کچھ اجنبی لوگ ہیں۔[25]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
25۔ جب وہ ابراہیم کے پاس آئے اور کہا آپ کو سلام ہے تو انہوں نے سلام کا جواب دیا (اور خیال کیا) کچھ اجنبی [20] سے لوگ ہیں
[20] اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے فرشتوں سے کہا ہو کہ آپ غالباً اس علاقہ میں نئے نئے تشریف لائے ہیں۔ پہلے آپ سے ملاقات نہیں ہو سکی اور دوسرا یہ کہ آپ نے اپنے دل میں ایسا کہا ہو یا ضیافت کے وقت اندر جاتے ہوئے گھر والوں سے کہا ہو۔