🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الطور
فَذَرۡہُمۡ حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ فِیۡہِ یُصۡعَقُوۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾
پس انھیں چھوڑ دے، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن کو جا ملیں جس میں وہ بے ہوش کیے جائیں گے۔[45]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
45۔ لہٰذا انہیں (ان کے حال پر) چھوڑیئے تا آنکہ اپنے اس دن کو جا ملیں جس میں یہ بے ہوش ہو کر گر پڑیں [38] گے
[38] اس سے مراد نفخہ صور اول ہے۔ یعنی ان لوگوں یا ان جیسے ہٹ دھرم لوگوں کی بد بختی کا یہ عالم ہے کہ اگر انہیں قیامت تک زندگی مل جائے تو بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں ان باتوں کا یقین تب ہی آئے گا جب عذاب خود ان پر واقع ہو جائے گا۔ لہٰذا آپ ایسے لوگوں کے پیچھے نہ پڑیں۔ بس اپنا کام کرتے جائیے۔