🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النجم
مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمۡ وَ مَا غَوٰی ۚ﴿۲﴾
کہ تمھارا ساتھی (رسول) نہ راہ بھولا ہے اور نہ غلط راستے پر چلا ہے۔[2]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
2۔ تمہارے رفیق [2] نہ تو راہ بھولے اور نہ بے راہ چلے
[2] روئے سخن کفار مکہ کی طرف ہے اور رفیق سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی سیرت و کردار سے کفار مکہ بچپن سے واقف تھے۔ انہیں قسم دے کر بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے یہ رفیق تاریکی میں نہیں بلکہ دن کی روشنی میں ٹھیک صراط مستقیم پر چل رہے ہیں نہ وہ راستہ بھولے ہیں کہ ادھر ادھر پھرتے رہیں اور نہ ہی راستہ سے بہکے ہوئے ہیں۔