🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الرحمٰن
وَّ النَّجۡمُ وَ الشَّجَرُ یَسۡجُدٰنِ ﴿۶﴾
اور بے تنے کے پودے اور درخت سجدہ کر رہے ہیں ۔[6]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
6۔ اور جڑی [5] بوٹیاں اور درخت اسے سجدہ کر رہے ہیں
[5] ﴿نجم﴾ کے معنی ستارا بھی ہے اور بے تنا درخت بھی جس میں جھاڑ جھنکار، جڑی بوٹیاں، بیلیں اور بے تنہ پودے سب شامل ہیں اور یہاں یہ دوسرا معنی ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور سجدہ ریز ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے جو طبعی قوانین ان کے لیے مقرر کر دیئے ہیں ان سے سرتابی نہیں کرتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ فی الواقع اللہ کو سجدہ کر رہے ہوں۔ لیکن انسان اس کیفیت اور ماہیت کو سمجھنے سے قاصر ہو۔ نیز انسان ان سے جو بھی فائدہ اٹھانا چاہے وہ اس میں رکاوٹ نہیں بنتے۔