خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ﴿ۙ۱۴﴾
اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو ٹھیکری کی طرح تھی۔[14]
14۔ اس نے انسان کو ٹھیکری [12] کی طرح بجنے والی مٹی سے پیدا کیا۔
[12] سیدنا آدم کے پہلے کی تخلیق کے مراحل:۔ یہ سیدنا آدم کے پتلے کی تخلیق کا ساتواں اور آخری مرحلہ ہے اور ان سات مراحل کی ترتیب یوں ہے۔
(1) ﴿تراب﴾ بمعنی خشک مٹی سے
[المومن: 67] (2) ﴿ارض﴾ بمعنی عام مٹی یا زمین
[نوح: 17] (3) ﴿طين﴾ بمعنی گیلی مٹی یا گارا
[الانعام: 2] (4) ﴿طِيْنٍ لاَّزِبٍ﴾ بمعنی لیسدار اور چپکدار مٹی
[الصافات: 11] (5) ﴿حَمَإٍ مَّسْنُوْنٍ﴾ بمعنی بدبو دار کیچڑ
[الحجر: 26] (6) ﴿صَلَصَالٍ﴾ ٹھیکرا یا حرارت سے پکائی ہوئی مٹی
[ايضاً] (7) ﴿صَلْصَالٍ كَاْلفَخَّارٍ﴾ بمعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری
[الرحمن: 14] پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح سے پھونکا تو ی
﴿﴾ ہ بشر بن گیا۔ اس کو مسجود ملائک بنایا گیا۔ پھر اسی سے اس کا زوج پیدا کیا گیا
[4: 1] پھر اس کے بعد حقیر پانی کے ست سے اس کی نسل چلائی گئی جس کے لیے دوسرے مقامات پر نطفہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔