🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الرحمٰن
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ﴿ۙ۱۴﴾
اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو ٹھیکری کی طرح تھی۔[14]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
14۔ اس نے انسان کو ٹھیکری [12] کی طرح بجنے والی مٹی سے پیدا کیا۔
[12] سیدنا آدم کے پہلے کی تخلیق کے مراحل:۔

یہ سیدنا آدم کے پتلے کی تخلیق کا ساتواں اور آخری مرحلہ ہے اور ان سات مراحل کی ترتیب یوں ہے۔

(1) ﴿تراب﴾ بمعنی خشک مٹی سے [المومن: 67]

(2) ﴿ارض﴾ بمعنی عام مٹی یا زمین [نوح: 17]

(3) ﴿طين﴾ بمعنی گیلی مٹی یا گارا [الانعام: 2]

(4) ﴿طِيْنٍ لاَّزِبٍ﴾ بمعنی لیسدار اور چپکدار مٹی [الصافات: 11]

(5) ﴿حَمَإٍ مَّسْنُوْنٍ﴾ بمعنی بدبو دار کیچڑ [الحجر: 26]

(6) ﴿صَلَصَالٍ﴾ ٹھیکرا یا حرارت سے پکائی ہوئی مٹی [ايضاً]

(7) ﴿صَلْصَالٍ كَاْلفَخَّارٍ﴾ بمعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری [الرحمن: 14]

پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح سے پھونکا تو ی ﴿﴾ ہ بشر بن گیا۔ اس کو مسجود ملائک بنایا گیا۔ پھر اسی سے اس کا زوج پیدا کیا گیا [4: 1]

پھر اس کے بعد حقیر پانی کے ست سے اس کی نسل چلائی گئی جس کے لیے دوسرے مقامات پر نطفہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔