کہہ دے وہی بے حد رحم والا ہے، ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اسی پر بھروسا کیا، تو تم عنقریب جان لوگے کہ وہ کون ہے جو کھلی گمراہی میں ہے۔[29]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
29۔ آپ ان سے کہیے: ”وہ رحمن ہی ہے جس پر ہم ایمان لائے اور اسی پر ہم [32] نے بھروسہ کیا ہے۔ اب تمہیں جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے؟
[32] ہماری عاقبت بخیر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم رحمٰن پر صرف ایمان ہی نہیں لائے بلکہ اپنے تمام تر امور کا انجام اسی کے سپرد کر رکھا ہے اور اسی پر ہی ہمارا بھروسہ ہے پھر وہ آخر کیوں ہمیں اپنی نعمتوں سے سرفراز نہ کرے گا۔ اور تمہیں جلد ہی اس بات کا پتہ چل جائے گا کہ گمراہی کے راستہ پر ہم پڑے ہوئے ہیں یا تم ہو۔ یہاں ”جلد“ سے مراد کافروں پر کوئی دنیوی عذاب بھی ہو سکتا ہے۔ ان کی موت کا وقت بھی اور قیامت کا دن بھی۔