🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة المعارج
اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ہَلُوۡعًا ﴿ۙ۱۹﴾
بلاشبہ انسان تھڑدلا بنایا گیا ہے۔[19]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
19۔ بلا شبہ انسان تھڑ دلا [12] پیدا کیا گیا ہے
[12] ﴿هلوعا﴾ کا لغوی مفہوم:۔

﴿هَلُوْعًا﴾ بمعنی بے قرار، بے ثبات، ایک حالت پر قائم نہ رہنے والا۔ حالات کی تبدیلی کا فوراً اثر قبول کر لینے والا۔ یعنی انسان فطری طور پر ایسا ہی پیدا ہوا ہے۔ یہ کیفیت ایک عام دنیا دار انسان یا انسانوں کی اکثریت کی ہے۔ اور جو لوگ ایمان لا کر اپنی اصلاح کر لیتے ہیں ان کے دل کی یہ کیفیت نہیں رہتی ان کے دل میں صبر و سکون اور ٹھہراؤ پیدا ہو جاتا ہے۔