🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الجن
لِّیَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ اَبۡلَغُوۡا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمۡ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیۡہِمۡ وَ اَحۡصٰی کُلَّ شَیۡءٍ عَدَدًا ﴿٪۲۸﴾
تاکہ جان لے کہ انھوں نے واقعی اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ہیں اور اس نے ان تمام چیزوں کااحاطہ کر رکھا ہے جو ان کے پاس ہیں اور ہر چیز کو گن کر شمار کر رکھا ہے۔[28]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
28۔ تاکہ اسے معلوم ہو جائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام [25] پہنچا دیئے ہیں اور جو کچھ ان رسولوں کو درپیش ہوتا ہے اس کا وہ احاطہ کیے ہوئے [26] ہے اور ہر چیز کو گن کر اسے ریکارڈ رکھا ہوا ہے۔
[25] وحی الٰہی کی حفاظت کا اہتمام:۔

اس جملہ کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں مثلاً ایک یہ کہ رسول کو علم ہو جائے کہ فرشتوں نے اپنے پروردگار کے پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیئے۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہو جائے کہ فرشتوں نے رسول کو پیغامات پہنچا دیئے اور تیسرا یہ کہ اللہ کو علم ہو جائے کہ رسولوں نے اس کے پیغام ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچا دیئے۔ گویا ان پہرے داروں کی اس وقت تک ڈیوٹی ختم نہیں ہوتی جب تک کہ اللہ کے پیغامات فرشتوں کے ذریعہ رسولوں تک اور رسولوں کے ذریعہ عام لوگوں تک پہنچا نہیں دیئے جاتے۔

[25] یعنی ان انتظامات کے علاوہ ان سب سے اوپر اللہ تعالیٰ کی اپنی نگرانی اور کنٹرول ہے۔ یعنی رسول پر بھی اور فرشتوں پر بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اسی طرح محیط ہے اگر وہ بال برابر بھی اس کی مرضی کے خلاف جنبش کریں تو فوراً گرفت میں آجائیں۔ نہ فرشتوں کی یہ مجال ہے کہ وہ وحی الٰہی میں سے ایک لفظ تک کی کمی بیشی کر سکیں اور نہ رسولوں کی۔ کیونکہ اللہ جو وحی بھیجتا ہے اس کا ایک ایک لفظ گنتی میں آچکا ہوتا ہے۔