🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة المزمل
وَ اذۡکُرِ اسۡمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلۡ اِلَیۡہِ تَبۡتِیۡلًا ؕ﴿۸﴾
اور اپنے رب کا نام ذکر کر اور ہر طرف سے منقطع ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہو جا۔[8]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
8۔ (لہٰذا رات کو) اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کیا کیجیے اور ہر طرف سے توجہ ہٹا کر اسی کی طرف متوجہ [9] ہو جائیے۔
[9] ﴿تَبَتُّلْ﴾ کا لغوی مفہوم:۔

﴿تَبَتُّلْ﴾ کے معنی کسی شے کو کاٹ کر کسی شے سے جدا کرنا اور بتل اور ﴿تبتل﴾ کے معنی ہر قسم کے دھندوں اور جھمیلوں سے توجہ ہٹا کر اور فراغت پا کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا اور خلوص نیت کے ساتھ عبادت الٰہی میں مشغول ہونا ہے۔ گویا یہ مقصد بھی دن کے کام کاج، ہنگاموں اور شور و شغب میں حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے بھی رات کو اٹھنا ہی مناسب وقت ہے۔