🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة المدثر
سَاُرۡہِقُہٗ صَعُوۡدًا ﴿ؕ۱۷﴾
عنقریب میں اسے ایک دشوار گھاٹی چڑھنے کی تکلیف دوں گا۔[17]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
17۔ میں عنقریب اسے ایک سخت چڑھائی [10۔ 1] چڑھاؤں گا
[10۔ 1] اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ میں اس کو اس کی زندگی میں سخت مشکلات سے دو چار کر دوں گا اور دوسرا مطلب اخروی عذاب سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: صعود دوزخ میں ایک پہاڑ ہے جس پر دوزخی کو چڑھایا جائے گا۔ پھر اسے وہاں سے نیچے گرایا جائے گا اسے ہمیشہ یہی عذاب ہوتا رہے گا۔ [ترمذي ابواب التفسير]