🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النبأ
ذٰلِکَ الۡیَوۡمُ الۡحَقُّ ۚ فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ مَاٰبًا ﴿۳۹﴾
یہی دن ہے جو حق ہے، پس جو چاہے اپنے رب کی طرف لوٹنے کی جگہ بنا لے۔[39]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
39۔ یہ وہ دن ہے جو ایک حقیقت ہے۔ اب جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف واپس جانے کی راہ اختیار [26] کرے
[26] یعنی مرنے کے بعد اور قیامت کے دن جو جو حالات پیش آنے والے ہیں وہ کھول کر بیان کیے جا رہے ہیں ان کی رو سے دو راہیں انسان کے سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ انسان جوابدہی کے تصور سے محتاط اور ذمہ دارانہ زندگی اختیار کرے۔ دوسری یہ کہ وہ آنے والے حالات سے آنکھیں بند کر کے دنیا کی زندگی ہی پر مست و شیدا رہے۔ اب انسان کو اختیار ہے کہ جونسی راہ وہ پسند کرتا ہے اختیار کرے۔