🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النازعات
فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّۃُ الۡکُبۡرٰی ﴿۫ۖ۳۴﴾
پھر جب وہ ہر چیز پر چھاجانے والی سب سے بڑی مصیبت آجائے گی ۔[34]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
34۔ پھر جب وہ عظیم آفت [24] آجائے گی
[24] ﴿الطّامة﴾ ﴿الطَّمُّ﴾ بمعنی پانی سے بھرا ہوا اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اور ﴿الطامه﴾ ایسی آفت جو دوسری تمام مصیبتوں پر حاوی ہو جائے۔ اور ﴿الكبريٰ﴾ کا لفظ اس بڑی آفت کو مزید نمایاں کرنے کے لیے تاکید کے طور پر آیا ہے اور اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔