تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، پس اس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں، تو ان کے رب نے انھیں ان کے گناہ کی وجہ سے پیس کر ہلاک کر دیا، پھر اس ( بستی) کو برابر کر دیا۔[14]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
14۔ لیکن انہوں نے رسول کو جھٹلایا [13] اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں [14] تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہ کی پاداش میں ایسی آفت نازل کی کہ انہیں زمین بوس کر کے برابر کر دیا۔
[13] یعنی ان لوگوں نے سیدنا صالحؑ کی تنبیہ کو چنداں اہمیت نہ دی اور اس تنبیہ کو جھوٹ ہی سمجھا۔
[14] اونٹنی کو ہلاک کرنے والا صرف ایک شخص قدار بن سالف تھا جو خود بھی زانی اور ایک زانیہ عورت کا عاشق تھا۔ اسی زانیہ عورت کی انگیخت پر اس نے اس کام کا بیڑا اٹھایا تھا۔ پھر ساری قوم کے لوگوں سے خفیہ مشورے کر کے ان کو ہمنوا بنا لیا تھا۔ اسی لیے اونٹنی کو ہلاک کرنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی ہے اور عذاب بھی صرف اونٹنی کو ہلاک کرنے والے پر نہیں بلکہ ساری قوم پر آیا تھا۔