🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الفيل
تَرۡمِیۡہِمۡ بِحِجَارَۃٍ مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ۪ۙ﴿۴﴾
جو ان پر کھنگر (پکی ہوئی مٹی) کی پتھریاں پھینکتے تھے۔[4]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
4۔ جو ان پر کنکروں [4] کے پتھر پھینکتے [5] تھے
[4] ﴿سجيل﴾ فارسی کے لفظ سنگ گل (بمعنی مٹی کا پتھر) سے معرب ہے۔ یعنی وہ نوکدار کنکریاں جن میں مٹی کی بھی آمیزش ہوتی ہے اور مٹی سے کنکریاں بن رہی ہوتی ہیں۔

[5] ﴿تَرْمِيْهِمْ﴾ ﴿رمي﴾ بمعنی کسی چیز کو نشانہ بنا کر دور سے پتھر کنکر وغیرہ پھینکنا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ پرندے ان پر کنکر گراتے تھے۔ بلکہ فرمایا نشانہ بنا کر پھینک رہے تھے۔ واضح رہے کہ تیر اندازی کے لیے بھی ﴿رمي﴾ کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے۔ گویا وہ پرندے یا اللہ کے لشکر باقاعدہ ان پر حملہ آور ہوئے تھے۔