🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النساء
اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اَصۡلَحُوۡا وَ اعۡتَصَمُوۡا بِاللّٰہِ وَ اَخۡلَصُوۡا دِیۡنَہُمۡ لِلّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ وَ سَوۡفَ یُؤۡتِ اللّٰہُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۱۴۶﴾
مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اصلاح کرلی اور اللہ کو مضبوطی سے تھام لیا اور اپنا دین اللہ کے لیے خالص کر لیا تو یہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ مومنوں کو جلد ہی بہت بڑا اجر دے گا۔[146]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
146۔ ہاں! ان میں سے جن لوگوں نے توبہ کر لی اور اپنی اصلاح کر لی اور اللہ (کے دین) کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اللہ کے لیے دین کو خالص [194] کر لیا تو ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ عنقریب مومنوں کو بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا
[194] یعنی جن منافقوں نے توبہ کر کے اپنے اعمال درست کر لیے پھر دین اسلام پر مضبوطی سے جم گئے اور اپنی ہمدردیاں اور وفاداریاں صرف اللہ اور اس کے دین کو مضبوط بنانے کے لیے وقف کر دیں اور اپنے آپ میں یہ چار اوصاف پیدا کر لیے تو وہ اس اخروی سزا سے بچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے سابقہ گناہ معاف کر کے انہیں مومنوں کی جماعت میں شامل کر دے گا اور جو مفادات دنیوی یا اخروی مومنوں کو حاصل ہوں گے وہ انہیں بھی حاصل ہوں گے۔