🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة المائده
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمۡ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ الۡکُفَّارَ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کو جنھوں نے تمھارے دین کو مذاق اور کھیل بنا لیا، ان لوگوں میں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور کفار کو دوست نہ بنائو اور اللہ سے ڈرو، اگر تم ایمان والے ہو۔[57]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
57۔ اے ایمان والو! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان میں سے اور کافروں میں سے ایسے لوگوں کو دوست نہ بناؤ [99۔ 1] ، جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی مذاق بنا رکھا ہے اور اگر تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو
[99۔ 1] کافروں منافقوں اہل کتاب سب سے دوستی کی ممانعت:۔

اس آیت میں مکرر سہ کرر مسلمانوں کو اس بات کی تاکید اور تاکید مزید کی جا رہی ہے کہ اہل کتاب ہوں یا دوسرے کافر و مشرک ہوں، جو لوگ بھی اللہ کا، اللہ کے رسول کا، اللہ کی آیات کا اور اللہ کے دین کی دوسری باتوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان میں سے کسی سے کبھی دوستی نہ گانٹھو۔ ایسے لوگ کبھی تمہارے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ایسے لوگوں سے متعلق پہلے احکام گزر چکے ہیں کہ جہاں یہ لوگ ایسی مجلس لگائے ان خرافات میں مشغول ہوں وہاں تم ہرگز نہ بیٹھا کرو۔ الا یہ کہ تم میں اتنی قوت ہو کہ تم ان کو زور بازو یا دلیل کی قوت سے روکنے کی کوشش کرو۔