تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الانعام
اَلَمۡ یَرَوۡا کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَکِّنۡ لَّکُمۡ وَ اَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَ عَلَیۡہِمۡ مِّدۡرَارًا ۪ وَّ جَعَلۡنَا الۡاَنۡہٰرَ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمۡ فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ وَ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِیۡنَ ﴿۶﴾
کیا انھوں نے نہیں دیکھا ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے، جنھیں ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمھیں نہیں دیا اور ہم نے ان پر موسلا دھار بارش برسائی اور ہم نے نہریں بنائیں، جو ان کے نیچے سے بہتی تھیں، پھر ہم نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دیا اور ان کے بعد دوسرے زمانے کے لوگ پیدا کر دیے۔[6]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
6۔ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر دیا۔ [6] انہیں ہم نے زمین میں اتنا اقتدار بخشا تھا جتنا تمہیں نہیں بخشا۔ اور ہم نے ان پر آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں پھر ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں ہلاک کر دیا اور ان کے بعد دوسری قومیں پیدا کر دیں
[6] قوموں کے عروج و زوال کی وجہ:۔ جیسے قوم عاد، ثمود، قوم نوح اور آل فرعون وغیرہ بے شمار ایسی اقوام ہیں جنہیں تم سے بڑھ کر اقتدار بخشا تھا وہ تم سے طاقتور اور زور آور بھی زیادہ تھے۔ کھانے پینے کی افراط اور خوشحالی تھی۔ سر سبز باغ، کھیت اور نہریں سب کچھ موجود تھا لیکن جب انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور کفر اور نافرمانیوں میں حد سے تجاوز کر گئے تو اپنے کرتوتوں کی پاداش میں انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ پھر کسی دوسری قوم کو ان کا جانشین بنا دیا گیا اس طرح زمین کی آبادکاری میں کچھ بھی خلل واقع نہ ہوا اور پہلی سرکش قوم کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹ گیا کیونکہ اس دنیا میں اللہ کی سنت جاریہ یہی ہے کہ ایک قوم کو آگے بڑھاتا ہے خوب آباد کرتا ہے اور مال و دولت عطا کرتا ہے۔ پھر جب اس میں ان نعمتوں کی وجہ سے غرور اور تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور اللہ کے احکام کو پس پشت ڈالنا شروع کر دیتی ہے تو اللہ اسے تباہ کر کے کسی دوسری قوم کو آگے لے آتا ہے پھر ان کے اعمال دیکھتا ہے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا ہے اور قیامت تک ایسے ہی چلتا رہے گا۔