🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الانعام
وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ بِخَیۡرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۷﴾
اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔[17]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
17۔ اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہچانا چاہے تو اس تکلیف کو اس کے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا اور اگر کوئی بھلائی [18] کرنا چاہے تو بھی وہ ہر چیز پر قادر ہے
[17] یعنی جنت میں اعلیٰ درجات تو دور کی بات ہے اگر کوئی شخص اس دن دوزخ کے عذاب سے نجات بھی پا جائے تو سمجھے کہ اس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور اللہ نے اس پر اپنا خاص فضل و کرم کیا ہے۔

[18] اس آیت سے شرک کی جڑ کٹ جاتی ہے کیونکہ جس انسان کا یہ عقیدہ پختہ ہو جائے کہ دکھ درد کو دور کرنے والا اور فائدہ پہنچانے والا صرف اللہ ہی ہے تو وہ کسی دوسرے کو کیوں پکارے گا یا اس کی نذر و نیاز کیوں دے گا؟ یا اس کے آگے سر تسلیم خم کیوں کرے گا؟ کیونکہ انسان جب بھی شرک کرتا ہے تو انہی دو باتوں کی خاطر کرتا ہے ایک فائدہ کے حصول کی خاطر دوسرے دفع مضرت۔ اگر ان دونوں باتوں کا مالک و مختار اللہ کو ہی سمجھ لے گا تو اسے شرک کی ضرورت پیش آہی نہیں سکتی۔