ا خسارے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا، یہاں تک کہ جب ان کے پاس قیامت اچانک آپہنچے گی کہیں گے ہائے ہمارا افسوس! اس پر جو ہم نے اس میں کوتاہی کی اور وہ اپنے بوجھ اپنی پشتوں پر اٹھائیں گے۔ سن لو! برا ہے جو وہ بوجھ اٹھائیں گے۔[31]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
31۔ بلا شبہ جن لوگوں نے اللہ سے ملاقات (کی حقیقت) کو جھٹلایا وہ نقصان میں رہے حتیٰ کہ جب قیامت اچانک انہیں آ لے گی تو کہیں گے: ”افسوس اس معاملہ میں ہم سے کیسی تقصیر ہوئی۔ اس وقت وہ اپنے گناہوں کا بوجھ [35] اپنی پشتوں پر لادے ہوں گے۔ دیکھو! کیسا برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے
[35] گناہوں کا بوجھ محض خیالی اور تصوراتی نہیں ہو گا بلکہ یہ بوجھ ممثل بنا کر بعض جانوروں کی شکل میں گنہگاروں کی پشتوں پر لاد دیا جائے گا۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں یہ صراحت موجود ہے۔