🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة البقرة
ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾
یہ کتاب، اس میں کوئی شک نہیں، بچنے والوں کے لیے سرا سر ہدایت ہے۔[2]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
2۔ یہ ایسی کتاب ہے جس میں شک [2] کی کوئی گنجائش نہیں، اس میں ان ڈرنے والوں کے لیے ہدایت [3] ہے
[2] یعنی اس کتاب قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے، اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر اترنے اور نبی کے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا دینے میں کسی مقام پر شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ یہ سب امور اللہ تعالیٰ کی براہ راست نگرانی میں طے پا رہے ہیں۔ ریب کا لغوی مفہوم:۔

ریب در اصل ایسے شک کو کہتے ہیں جس میں اضطراب اور خلجان کا عنصر بھی شامل ہو۔ کفار مکہ کے قرآن کے نزول پر دو طرح کے اعتراض تھے۔ ایک یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی اس کو تصنیف کر کے ہمیں یہ کہہ دیتا ہے کہ یہ کلام منزل من اللہ ہے اور دوسرا اعتراض یہ تھا کہ یہ قرآن دوسرے عالموں سے سیکھ کر ہمیں سنا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ منزل من اللہ ہے۔ اگر بات اتنی ہی ہوتی تو خلجان اور اضطراب کا کوئی عنصر اس میں شامل نہیں ہوتا تھا۔ مگر مشکل یہ تھی کہ قرآن جو دعوت پیش کر رہا تھا اس میں سب سے زیادہ زور ہی عقیدہ آخرت اور اخروی باز پرس پر دیا جا رہا تھا جب کہ کفار مکہ بعث بعد الموت کے کلی طور پر منکر تھے اور انہیں اضطراب اور بے چینی اس بات پر تھی کہ اگر بالفرض قرآن کی دعوت سچی ہے تو پھر ان کی خیر نہیں۔ ان کے اسی اضطراب اور خلجان کو دور کرنے کے لیے اس سورۃ کے تمہیدی الفاظ میں ہی یہ واضح کر دیا گیا کہ اس کتاب کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نزول اور اس کے مضامین سب کچھ قطعی اور یقینی ہیں اور اس پر ایمان لانے والوں کو کسی قسم کا شک اضطراب اور خلجان باقی نہیں رہتا۔ لہٰذا تمہارے اضطراب اور خلجان کا بھی یہی علاج ہے۔ کہ تم اسے تسلیم کر کے اس پر ایمان لے آؤ۔

کیا قرآن صرف متقین کے لیے ہدایت ہے یا سب کے لیے؟

اس مقام پر فرمایا کہ یہ کتاب ڈرنے والوں یا متقین کے لیے ہدایت ہے اور ایک دوسرے مقام پرا سی قرآن کریم کو ﴿هديٰ للناس﴾ (تمام لوگوں کے لیے ہدایت) [185: 2] فرمایا۔ اس کی مثال یوں سمجھیے، جیسے ایک مقرر کسی جلسہ میں سب حاضرین کو مخاطب کر کے نہایت قیمتی معلومات بتاتا اور انہیں ہدایات دیتا ہے لیکن ان سے تمام حاضرین یکساں مستفیض نہیں ہوتے بلکہ ہر شخص اپنی بساط کے مطابق ان سے استفادہ کرتا اور ان پر عمل پیرا ہوتا ہے اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جو مطلقاً کوئی اثر قبول نہیں کرتے۔ یہی صورت قرآنی ہدایات کی بھی ہے۔ ان سے صرف ڈرنے والے یا متقین ہی ہدایت حاصل کرتے ہیں۔ اگلی تین آیات میں وہ اوصاف یا شرائط بیان کی گئی ہیں جو متقین کے لیے ضروری ہیں۔