🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3200. -- باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا
-- باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q15712
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 6] فَجَعَلَ لَهُنَّ نَفَقَةً بِصِفَةٍ.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ ”اور اگر وہ حمل والی ہوں تو ان پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا حمل جن دیں۔“ [سورة الطلاق: 6]
پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک خاص صفت (یعنی حمل) کی بنا پر نفقہ مقرر فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: Q15712]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15712
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهَا:" لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ"، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ وَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ فَقَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.
ابو سلمہ بن عبدالرحمن، سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاقِ بائنہ دے دی اور وہ غائب تھا۔ اس نے (ابو عمرو بن حفص نے) اپنا وکیل فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی طرف کچھ جو دے کر بھیجا، وہ اس (جو) پر ناراض ہوئیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میرے ذمے تیرے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انہوں نے یہ تمام قصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کے ذمے خرچہ نہیں ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عدت ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزاریں، پھر فرمایا: ”وہ ایسی عورت ہے جس کو میرا صحابی ڈھانپتا ہے (یعنی وہاں لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہے)، تو ابنِ امِ مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہیں تو اپنے کپڑے بھی (آسانی سے) تبدیل کر سکے گی اور جب تو حلال ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا۔“ وہ کہتی ہیں: جب میں حلال ہو گئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما اور ابو جہم رضی اللہ عنہ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو جہم اپنا ڈنڈا اپنے کندھے پر ہی رکھتا ہے اور معاویہ فقیر آدمی ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے، تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لے۔“ وہ کہتی ہیں: میں اس کو ناپسند کرتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوبارہ) فرمایا: ”تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لے۔“ میں نے ان سے نکاح کر لیا، اللہ تعالیٰ نے اس میں خیر فرما دی اور میں رشک کیا کرتی تھی۔ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یحییٰ سے، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15712]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 1480»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15713
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ فَأَخْبَرَتْنِي: أَنَّ زَوْجَهَا الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا فَأَبَى أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَفَقَةَ لَكِ فَانْتَقِلِي وَاذْهَبِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُونِي عِنْدَهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
ابو سلمہ رحمہ اللہ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، اس نے مجھے خبر دی کہ اس کے مخزومی خاوند نے اسے طلاق دے دی اور اس پر خرچ کرنے سے انکار کردیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے، تو منتقل ہوجا اور ابن ام مکتوم (رضی اللہ عنہ) کی طرف چلی جا اور اسی کے پاس رہ، وہ نابینا آدمی ہے تو اس کے پاس اپنے کپڑے بھی اتار سکے گی۔“ اس کو مسلم رحمہ اللہ نے قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15713]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15714
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّهُ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ نَفَقَ عَلَيْهَا نَفَقَةً دُونَ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ قَالَتْ: وَاللهِ لَأُكَلِّمَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَتْ لِي ⦗٧٧٦⦘ نَفَقَةٌ أَخَذْتُ الَّذِي يُصْلِحُنِي وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِي نَفَقَةٌ لَمْ آخُذْ شَيْئًا، قَالَتْ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا نَفَقَةَ لَكِ وَلَا سُكْنَى" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَكَذَلِكَ قَالَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ جَمِيعًا.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کو ان کے شوہر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں طلاق دی اور وہ ان پر معمولی سا خرچہ کیا کرتا تھا، جب انہوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور بات کروں گی، پس اگر میرے لیے خرچہ ہوا تو میں وہ لوں گی جو میرے لیے درست ہے اور اگر میرے لیے خرچہ نہ ہوا تو میں کچھ بھی نہیں لوں گی۔ وہ کہتی ہیں: میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے اور تیرے لیے رہائش بھی نہیں ہے۔“ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے قتیبہ سے روایت کیا ہے اور اسی طرح اس کو یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ نے ابو سلمہ رحمہ اللہ سے رہائش اور خرچہ کے بارے میں بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15714]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15715
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَهْلِهِ تَبْتَغِي النَّفَقَةَ فَقَالُوا: لَيْسَتْ لَكِ عَلَيْنَا نَفَقَةٌ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ:" لَيْسَتْ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ، وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ فَانْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِخْوَتُهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينِ الْأَوَّلِينَ فَانْتَقِلِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى إِنْ وَضَعْتِ ثَوْبَكِ لَمْ يَرَ شَيْئًا وَلَا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكَ" قَالَتْ: فَلَمَّا أَحَلَّتْ ذَكَرَهَا رِجَالٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيْنَ أَنْتِ عَنْ أُسَامَةَ؟" قَالَ: فَكَأَنَّ أَهْلَهَا كَرِهُوا ذَلِكَ قَالَتْ: لَا وَاللهِ لَا أَنْكِحُ إِلَّا الَّذِي قَالَ فَنَكَحَتْهُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ: يَا فَاطِمَةُ اتَّقِي اللهَ فَقَدْ عَرَفْتُ مِنْ أِيِّ شَيْءٍ كَانَ ذَلِكَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ دُونَ قَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ بنو مخزوم کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں، اس نے انہیں طلاق بائنہ دے دی، انہوں نے اس کے اہل کی طرف قاصد بھیجا کہ وہ خرچہ مانگتی ہیں، انہوں نے کہا: تیرے لیے ہمارے ذمے خرچہ نہیں ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کے ذمے خرچہ نہیں ہے اور تیرے ذمے عدت ہے، تو ام شریک کی طرف منتقل ہو جا۔“ پھر فرمایا: ”ام شریک ایسی عورت ہے جس کے پاس اس کے مہاجرین اولین میں سے (دینی) بھائی آتے جاتے ہیں، تو ابن ام مکتوم کی طرف منتقل ہو جا، وہ نابینا آدمی ہے، اگر تو اپنے کپڑے اتارے گی تو وہ کچھ نہیں دیکھ سکے گا اور ہم سے پوچھے بغیر اپنے بارے میں (نکاح کا) فیصلہ نہ کرنا۔“ کہتی ہیں: جب وہ حلال ہوگئی تو کچھ آدمیوں نے اس (سے نکاح) کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا اسامہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ کہا: گویا کہ اس کے اہل یہ ناپسند کرتے ہیں، کہتی ہیں: اللہ کی قسم! میں نکاح نہیں کروں گی مگر اسی سے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چنانچہ اس نے ان سے نکاح کر لیا۔ محمد بن عمرو نے کہا: مجھے محمد بن ابراہیم نے حدیث بیان کی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: ”اے فاطمہ! اللہ سے ڈر، میں جانتی ہوں کہ وہ (منتقلی) کس وجہ سے تھی۔“ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے علی بن حجر اور اس کے علاوہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کے بغیر اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15715]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15716
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى عَنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، وَهِيَ أُخْتُ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَأَمَرَ وَكِيلَهُ لَهَا بِنَفَقَةٍ فَرَغِبَتْ عَنْهَا فَقَالَ لِي وَكِيلُهُ: مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ نَفَقَةٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهَا:" صَدَقَ"، وَنَقَلَهَا إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَأَنْكَرَ النَّاسُ عَلَيْهَا مَا كَانَتْ تُحَدِّثُ مِنْ خُرُوجِهَا قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا، جو ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، انہوں نے خبر دی کہ وہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، انہوں نے ان کو تین طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے اپنے وکیل کو اس عورت کے لیے خرچے کا حکم دیا، اس نے اس سے بےرغبتی کی۔ مجھے اس کے وکیل نے کہا: تیرے لیے ہمارے ذمے خرچہ نہیں ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ انہوں نے اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“ اور ان کو ابنِ امِ مکتوم رضی اللہ عنہ کی طرف منتقل کردیا۔ اس پر لوگوں نے انکار کیا جو وہ حلال ہونے سے پہلے خروج بیان کرتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15716]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15717
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ قَالُوا: نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَاقُ: أَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ خَرَجَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ فَأَرْسَلَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِتَطْلِيقَةٍ كَانَتْ بَقِيَتْ مِنْ طَلَاقِهَا، فَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ، وَعَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَةٍ قَالَا: وَاللهِ مَا لَكِ مِنْ نَفَقَةٍ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ قَوْلَهُمَا فَقَالَ:" لَا نَفَقَةَ لَكِ" وَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي الِانْتِقَالِ ⦗٧٧٧⦘ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ: أَيْنَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" وَكَانَ أَعْمَى تَضَعُ ثِيَابَهَا عِنْدَهُ وَلَا يَرَاهَا، فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا" أَنْكَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَرْوَانُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ يَسْأَلُهَا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَتْهُ بِهِ فَقَالَ مَرْوَانُ: لَمْ نَسْمَعْ بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا مِنِ امْرَأَةٍ سَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حِينَ بَلَغَهَا قَوْلُ مَرْوَانَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمُ الْقُرْآنُ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ:" لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ" حَتَّى بَلَغَ {لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا} [الطلاق: ١] قَالَتْ: هَذَا لِمَنْ كَانَتْ لَهُ مُرَاجَعَةٌ فَأِيُّ أَمْرٍ يَحْدُثُ بَعْدَ الثَّلَاثِ فَكَيْفَ تَقُولُونَ: لَا نَفَقَةَ لَهَا إِذَا لَمْ تَكُنْ حَامِلًا فَعَلَامَ تَحْبِسُونَهَا؟، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کی طرف نکلا، اس نے اپنی بیوی (فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا) کی طرف وہ طلاق بھیجی جو اس کی طلاقوں میں سے باقی تھی۔ اس کو حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہما نے نفقہ کا حکم دیا۔ ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! تیرے لیے نفقہ نہیں ہے، اگر تو حاملہ ہوتی تو تیرے لیے خرچہ ہوتا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کے سامنے ان دونوں کے قول کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے۔“ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منتقل ہونے کے بارے میں اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کہاں (منتقل ہو جاؤں)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم کی طرف، وہ نابینا آدمی ہے، تو اس کے پاس اپنے کپڑے اتارے گی تو وہ تجھے نہیں دیکھ سکے گا۔“ جب اس کی عدت گزر گئی تو اس کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ مروان نے اس کی طرف قبیصہ بن زویب کو بھیجا کہ وہ اس سے اس حدیث کے بارے میں سوال کرے، اس نے اس کو حدیث بیان کر دی۔ مروان نے کہا: میں نے یہ حدیث نہیں سنی مگر ایک عورت سے، ہم عنقریب اس عصمت کو تھامے رکھیں گے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب مروان کا یہ قول ان کو پہنچا تو انہوں نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] حتیٰ کہ وہ اس مقام تک پہنچا ﴿لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا﴾ [سورة الطلاق: 1] ”تم ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، مگر یہ کہ وہ واضح بے حیائی کا ارتکاب کریں (تو ان کو نکال دو)، تم نہیں جانتے شاید کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کے بعد کوئی نیا معاملہ پیدا کر دے۔“ وہ کہتی ہیں: یہ اس کے لیے ہے جس کے لیے رجوع (کا حق) ہو، بھلا کون سا معاملہ ہے جو تین (طلاقوں) کے بعد واقع ہو سکتا ہے؟ تم کیسے کہتے ہو کہ اس کے لیے خرچہ نہیں ہے جب وہ حاملہ نہ ہو؟ پھر تم اسے کس بات پر (نکلنے سے) روک رہے ہو؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15717]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15718
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا نَفَقَةَ لَكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا".
عبدالرزاق نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث ذکر کی مگر اس نے حدیث میں کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے مگر یہ کہ تو حاملہ ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15718]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15719
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَقَدْ أَخْرَجَتِ ابْنَةَ أَخِيهَا طُهْرًا فَقُلْنَا لَهَا: مَا حَمَلَكِ عَلَى هَذَا؟ قَالَتْ: كَانَ زَوْجِي بَعَثَ إِلِيَّ مَعَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلَاقِي ثَلَاثًا فِي غَزْوَةِ نَجْرَانَ وَبَعَثَ إِلِيَّ بِخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ شَعِيرٍ وَخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ قَالَتْ: فَقُلْتُ أَمَا لِي نَفَقَةٌ إِلَّا هَذَا؟ قَالَتْ: فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كَمْ طَلَّقَكِ؟" فَقُلْتُ: ثَلَاثًا فَقَالَ:" صَدَقَ لَا نَفَقَةَ لَكِ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ تَضَعِينَ عَنْكِ ثِيَابَكِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ وَأَبِي عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ وَرِوَايَةُ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ فِي النَّفَقَةِ وَالسُّكْنَى جَمِيعًا.
ابوبکر بن ابوجہم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی طرف گئے اور اس نے اپنے بھائی کی بیٹی کو طہر میں نکالا تھا۔ ہم نے اس سے کہا: تجھے اس پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا: میرے خاوند نے نجران کے غزوہ میں میری طرف عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ میری تیسری طلاق بھیجی ہے اور میری طرف پانچ صاع جو اور پانچ صاع کھجور بھیجی ہے۔ میں نے کہا: میرے لیے صرف یہی خرچہ ہے؟ میں نے اپنے کپڑوں کو جمع کیا اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنی طلاقیں اس نے تجھے دی ہیں؟“ میں نے کہا: تین۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے، تیرے لیے خرچہ نہیں ہے، تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزار، تو اپنے کپڑے بھی اتارے گی۔“
اس کو مسلم رحمہ اللہ نے عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ اور ابوعاصم رحمہ اللہ کی حدیث سے سفیان رحمہ اللہ سے اپنی صحیح میں نکالا ہے اور اس کو شعبہ رحمہ اللہ نے ابوبکر سے خرچہ اور رہائش کے بارے میں اکٹھا روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15719]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15720
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، نا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، نا هُشَيْمٌ، نا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَمٍ، وَأَشْعَثُ، وَمُجَالِدٌ، وَدَاوُدُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ قَالَتْ: فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ قَالَتْ:" فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً وَأَمَرَنِي أَنْ اعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" ⦗٧٧٨⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ. هَكَذَا رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَفِي رِوَايَةِ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ عَلَى مَنْ كَانَتْ لَهُ الْمُرَاجَعَةُ".
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، میں نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کے بارے میں سوال کیا جو ان کے بارے میں ہوا تھا۔ وہ کہتی ہیں: انہیں ان کے خاوند نے طلاقِ بتہ دے دی، میں نے ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہائش اور خرچے کے بارے میں مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں فرمایا اور مجھے حکم دیا کہ میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزاروں۔
شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس کے لیے رجوع ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15720]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں