🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3200. -- باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا
-- باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15721
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا هُشَيْمٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ عَنِ الْجَمَاعَةِ كَمَا مَضَى وَأَتَى بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ عَنْ مُجَالِدٍ..
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15721]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15722
وَفِي رِوَايَةِ فِرَاسٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي قِصَّةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَ: فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ قَدْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ:" إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَتْ عَلَيْهِ رَجْعَةٌ" فَأَمَرَهَا فَاعْتَدَّتْ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ..
شعبی سے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے قصے کے بارے میں منقول ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھگڑا کیا۔ آدمی نے کہا: اس کو اس نے تین طلاقیں دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر رجوع ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15722]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15723
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فَذَكَرَهُ.
ایضا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15723]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15724
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا" فَلَمْ يَجْعَلْ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحُلْوَانِيِّ وَرَوَاهُ غَيْرُ يَحْيَى بْنِ آدَمَ كَمَا.
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں کیا۔ اس کو مسلم نے حلوانی سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15724]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15725
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا شَاذَانُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ:" يَا فَاطِمَةُ إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ" كَذَا أَتَى بِهِ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ وَالصَّحِيحُ هُوَ الْأَوَّلُ قَالَ الشَّيْخُ: رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فِي نَفْيِ النَّفَقَةِ دُونَ السُّكْنَى، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ فَاطِمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ الشَّعْبِيِّ وَالْبَهِيِّ نَفْيُهُمَا جَمِيعًا وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ ⦗٧٧٩⦘ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ فَاطِمَةَ، وَالْأَشْبَهُ بِسِيَاقِ الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَى النَّفَقَةَ وَأَذِنَ لَهَا فِي الِانْتِقَالِ لِعِلَّةٍ لَعَلَّهَا اسْتَحَيَتْ مِنْ ذِكْرِهَا وَقَدْ ذَكَرَهَا غَيْرُهَا عَلَى مَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهَا فِي كِتَابِ الْعِدَدِ وَلَمْ يَرِدْ نَفْيُ السُّكْنَى أَصْلًا، أَلَا تَرَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقُلْ لَهَا: اعْتَدِّي حَيْثُ شِئْتِ وَلَكِنَّهُ حَصَنَهَا حَيْثُ رَضِيَ إِذْ كَانَ زَوْجُهَا غَائِبًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَكِيلٌ يُحْصِنُهَا، وَأَمَّا قَوْلُهُ:" إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَتْ عَلَيْهِ رَجْعَةٌ" فَلَيْسَ بِمَعْرُوفٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَرِدْ مِنْ وَجْهٍ يُثْبِتُ مِثْلَهُ، وَأَمَّا إِنْكَارُ مَنْ أَنْكَرَ عَلَى فَاطِمَةَ فَإِنَّمَا هُوَ لِكِتْمَانِهَا السَّبَبَ فِي نَقْلِهَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اے فاطمہ! رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر اس کے خاوند کے لیے رجوع (کا حق باقی) ہو۔“ اسود بن عامر شاذان نے اسے اسی طرح بیان کیا ہے اور صحیح پہلی (روایت) ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جماعت کی روایت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے خرچہ کی نفی کی ہے رہائش کی نہیں، اور اسی طرح عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کی روایت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہے، اور ابو سلمہ رحمہ اللہ سے ان کے بعض (شاگردوں) کی روایت میں، اور شعبی رحمہ اللہ اور بہی رحمہ اللہ کی روایت میں ان دونوں کی اکٹھے نفی ہے، اور ابوبکر بن ابو جہم رحمہ اللہ کی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں اس بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ حدیث کے سیاق کے زیادہ مشابہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خرچہ کی نفی کی اور ان کو منتقل ہونے کی اجازت (کسی) علت کی وجہ سے دی، شاید وہ اس کے ذکر سے حیا کرتی تھیں اور ان کے علاوہ دوسروں نے اسے ذکر کیا ہے، جیسا کہ ہم نے اس کا ذکر پہلے ’کتاب العدد‘ میں کر دیا ہے، اور رہائش کی نفی اصلاً (ثابت طور پر) وارد نہیں ہوئی۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ نہیں فرمایا کہ ”تو جہاں چاہے عدت گزار“ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہاں محفوظ رکھا جہاں آپ نے پسند فرمایا، کیونکہ ان کا خاوند غائب تھا اور اس کا کوئی وکیل نہ تھا جو انہیں محفوظ رکھے۔ رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر رجوع (کا حق باقی) ہو۔“ تو یہ اس حدیث میں معروف نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی ایسی سند سے وارد ہوا ہے جس سے اس جیسی بات ثابت ہو۔ اور جن لوگوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا پر انکار کیا تو وہ صرف اس لیے تھا کہ انہوں نے اپنی منتقلی کا سبب چھپایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15725]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15726
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِهَا فَدُفِعْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَبْتُوتَةِ، فَقَالَ: تَعْتَدُّ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا فَقُلْتُ: فَأَيْنَ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ فَقَالَ: هَاهْ وَوَصَفَ أَنَّهُ تَغَيَّظَ وَقَالَ: فَتَنَتْ فَاطِمَةُ النَّاسَ كَانَتْ بِلِسَانِهَا ذَرَّابَةً فَاسْتَطَالَتْ عَلَى أَحْمَائِهَا فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ.
عمرو بن میمون بن مہران رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں مدینہ میں آیا، میں نے اس کے اہل میں سے زیادہ جاننے والے سے سوال کیا، مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی طرف بھیج دیا گیا، میں نے ان سے طلاقِ مبتوتہ والی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی۔ میں نے کہا: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث کہاں گئی؟ انہوں نے کہا: اس پر افسوس! اور بیان کیا، وہ غصے میں تھے اور کہا: فاطمہ رضی اللہ عنہا نے لوگوں کو فتنے میں ڈالا، ان کی زبان میں تیزی تھی (یعنی وہ زبان دراز تھی) وہ اپنے دیوروں پر زبان درازی کرتی، اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ: ”وہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزارے۔“ اسی طرح اس کو ابو معاویہ ضریر نے عمرو بن میمون رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15726]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَبُو عُتْبَةَ، نا بَقِيَّةُ، نا حَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٧٨٠⦘ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذْ سَأَلَهُ رَجُلٌ هَلْ لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا نَفَقَةٌ؟ فَقُلْتُ:" لَيْسَ لَهَا نَفَقَةٌ" فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَصَبْتَ يَا ابْنَ أَخِي أَنَا مَعَكَ".
حبیب بن صالح فرماتے ہیں کہ مجھے محمد بن عباد مکی نے حدیث بیان کی کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، جب ان سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ کیا تین طلاق والی کے لیے خرچہ ہے؟ میں نے کہا: اس کے لیے خرچہ نہیں ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے بھتیجے! تو نے درست کہا اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15727]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15728
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ:" نَفَقَةُ الْمُطَلَّقَةِ مَا لَمْ تُحَرَّمْ فَإِذَا حُرِّمَتْ فَمَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”طلاق شدہ کا خرچہ اس وقت تک ہے جب تک وہ حرام نہ ہو اور جب وہ حرام ہو جائے تو اچھے انداز میں عرف کے مطابق فائدہ دینا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15728]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15729
وَقَالَ أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ:" لَيْسَتِ الْمَبْتُوتَةُ الْحُبْلَى مِنْهُ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنَّهُ يُنْفِقُ عَلَيْهَا مِنْ أَجْلِ الْحَبَلِ فَإِذَا كَانَتْ غَيْرَ حُبْلَى فَلَا نَفَقَةَ لَهَا" وَاللهُ أَعْلَمُ.
عطاء رحمہ اللہ نے کہا: مطلقہ مبتوتہ کے لیے کچھ نہیں ہے، اس کے لیے کچھ بھی نہیں سوائے حاملہ کے، وہ اس پر اس کے حمل کی وجہ سے خرچ کرے گا اور اگر وہ حاملہ نہیں ہے تو اس کے لیے خرچہ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15729]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں