السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3497. -- باب: ما جاء في الكسر بالماء
-- باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17439
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، يَقُولُ: ابْنُ يَمَانٍ سَرِيعُ النِّسْيَانَ، وَحَدِيثُهُ خَطَأٌ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، إِنَّمَا هُوَ عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ.
محمد بن عبداللہ بن نمیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن یمان رحمہ اللہ بہت بھولتا تھا اور «ثَوْرِي عَنْ مَنْصُورٍ» کے طریق سے اس نے خطا کھائی ہے، بلکہ یہ صحیح سند «كَلْبِي عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مُطَلِّبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ رضی اللہ عنہ» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17439]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17440
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ، ثنا الْجُنَيْدِيُّ، قَالَ: قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ: هَذَا لَمْ يَصِحَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا، وَقَالَ الْأَشْجَعِيُّ وَغَيْرُهُ: عَنْ سُفْيَانَ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ.
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن یمان کی یہ حدیث (١٧٤٣٨) صحیح نہیں ہے اور اشجعی کہتے ہیں کہ یہ عن سفیان عن کلبی عن ابی صالح عن مطلب صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17440]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17441
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْمَحْمُودِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُوسَى، قَالَ: ذَكَرْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ حَدِيثَ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ، فِي النَّبِيذِ، قَالَ: لَا تُحَدِّثْ بِهَذَا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ سَرَقَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانٍ فَرَوَاهُ عَنْ سُفْيَانَ، وَسَرَقَهُ الْيَسَعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فَرَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ عَنْ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانٍ مَتْرُوكٌ، وَالْيَسَعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
ابو موسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ کو سفیان عن منصور والی حدیث (17438) بیان کی تو انہوں نے مجھے بیان کرنے سے منع کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: اسے عبدالعزیز بن ابان نے چرا کر سفیان سے روایت کیا، اور یسع بن اسماعیل نے چرا کر زید بن حباب عن سفیان سے روایت کیا، اور عبدالعزیز بن ابان متروک ہے اور یسع بن اسماعیل ضعیف الحدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17441]
شیخ فرماتے ہیں: اسے عبدالعزیز بن ابان نے چرا کر سفیان سے روایت کیا، اور یسع بن اسماعیل نے چرا کر زید بن حباب عن سفیان سے روایت کیا، اور عبدالعزیز بن ابان متروک ہے اور یسع بن اسماعیل ضعیف الحدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17441]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لابن المهدي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17442
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قِصَّةِ طَوَافِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدُعَائِهِ بِشَرَابٍ، قَالَ: فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَصَبَّهُ فِيهِ فَشَرِبَ، ثُمَّ اشْتَدَّ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ فِيهِ، ثُمَّ شَرِبَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْكُمْ فَاقْتُلُوهُ بِالْمَاءِ" وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ضَعِيفٌ، لَا يُحْتَجُّ بِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَقَدْ رَوَى خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِصَّةَ طَوَافِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشُرْبِهِ، لَمْ يَذْكُرْ فِيهَا مَا ذَكَرَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَإِنَّمَا تُعْرَفُ هَذِهِ الزِّيَادَةُ مِنْ رِوَايَةِ الْكَلْبِيِّ كَمَا مَضَى، ⦗٥٢٩⦘ وَزَادَ يَزِيدُ: شَرِبَهُ مِنْهُ قَبْلَ خَلْطِهِ بِالْمَاءِ، وَهُوَ بِخِلَافِ سَائِرِ الرِّوَايَاتِ، وَكَيْفَ يُظَنُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الْمُسْكِرَ إِنْ كَانَ مُسْكِرًا عَلَى زَعْمِهِمْ قَبْلَ أَنْ يَخْلِطَهُ بِالْمَاءِ؟ فَدَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَا أَصْلَ لَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قصہ طواف ذکر کرتے ہیں اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مشروب منگایا تھا اس کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ مشروب لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا، پھر پانی منگوا کر اس میں ڈالا اور پیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت محسوس ہوا تو پانی منگوا کر اس میں ڈالا، پھر دو یا تین مرتبہ پیا، پھر فرمایا: ”جب یہ تم پر سخت ہو جائے تو اس (کی سختی) کو پانی کے ساتھ قتل کرو۔“
یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے، حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس سے دلیل نہیں لی جاتی۔ خالد حذاء نے عکرمہ عن ابن عباس کے طریق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف اور مشروب پینے کا قصہ روایت کیا ہے اور اس میں وہ بات ذکر نہیں کی جو یزید نے ذکر کی ہے، یہ اضافہ تو کلبی کی روایت سے پہچانا جاتا ہے جیسا کہ گزر چکا۔ یزید نے یہ اضافہ بھی کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی ملانے سے پہلے اس میں سے پیا، جو باقی تمام روایات کے خلاف ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نشہ آور چیز، اگر ان کے خیال میں وہ نشہ آور تھی، پانی ملانے سے پہلے پی لیں؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17442]
یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے، حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس سے دلیل نہیں لی جاتی۔ خالد حذاء نے عکرمہ عن ابن عباس کے طریق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف اور مشروب پینے کا قصہ روایت کیا ہے اور اس میں وہ بات ذکر نہیں کی جو یزید نے ذکر کی ہے، یہ اضافہ تو کلبی کی روایت سے پہچانا جاتا ہے جیسا کہ گزر چکا۔ یزید نے یہ اضافہ بھی کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی ملانے سے پہلے اس میں سے پیا، جو باقی تمام روایات کے خلاف ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نشہ آور چیز، اگر ان کے خیال میں وہ نشہ آور تھی، پانی ملانے سے پہلے پی لیں؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17442]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17443
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السِّرَاجُ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا دَارِمٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَنَفِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ عَطَاءً وَسُئِلَ عَنِ النَّبِيذِ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ أَبِي رَبَاحٍ إِنَّ هَؤُلَاءِ يَسْقُونَنَا فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَقَدْ أَدْرَكْتُهَا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لِيَشْرَبُ مِنْهَا فَتَلْتَزِقُ شَفَتَاهُ مِنْ حَلَاوَتِهَا، وَلَكِنَّ الْحُرِّيَّةَ ذَهَبَتْ وَوَلِيَهَا الْعَبِيدُ فَتَهَاوَنُوا بِهَا.
دارم بن عبدالحمید حنفی کہتے ہیں کہ میں عطاء رحمہ اللہ کے پاس تھا۔ ان سے نبیذ کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ تو میں نے کہا: اے ابن ابی رباح! یہ لوگ تو ہمیں مسجد میں (نبیذ) پلاتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ میں نے وہ زمانہ پایا ہے کہ آدمی اسے پیتا تو اس کی مٹھاس کی وجہ سے اس کے ہونٹ آپس میں چپک جاتے تھے، لیکن آزاد لوگ چلے گئے اور اس کا انتظام غلاموں کے ہاتھ آ گیا تو انہوں نے اس میں لاپرواہی برتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17443]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17444
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ ابْنُ أَخِي الْقَعْقَاعِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَجُلٍ رِيحَ نَبِيذٍ، فَقَالَ:" مَا هَذِهِ الرِّيحُ؟".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ بو کیسی؟“ اس نے کہا: نبیذ کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس لاؤ۔“ وہ نبیذ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو وہ بہت سخت تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پانی ملا لیا اور فرمایا: ”جب تمہارا مشروب سخت ہو جائے تو اس طرح اس میں پانی ملا لیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17444]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17445
وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ ابْنِ أَخِي الْقَعْقَاعِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مِنْهُ رِيحًا فَقَالَ:" مَا هَذِهِ الرِّيحُ؟" فَقَالَ: نَبِيذٌ، قَالَ:" فَأَرْسِلْ إِلِيَّ مِنْهُ"، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَوَجَدَهُ شَدِيدًا، فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا اغْتَلَمَتْ أَشْرِبَتُكُمْ فَاكْسِرُوهَا بِالْمَاءِ" وَرَوَاهُ أَيْضًا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قُرَّةَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَقَالَ:" فَاقْطَعُوا مُتُونَهَا بِالْمَاءِ".
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17445]
حدیث نمبر: 17446
أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ كَزَالٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ الْعِجْلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنِ أَخِي الْقَعْقَاعِ بْنِ شَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَ لَهُ شَرَابٌ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْهُ، فَلَمَّا قَرَّبَهُ إِلَى فِيهِ كَرِهَهُ فَرَدَّهُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ:" رُدُّوهُ" فَأَخَذَ مِنْهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" انْظُرُوا هَذِهِ الْأَسْقِيَةَ، إِذَا اغْتَلَمَتْ فَاقْطَعُوا مُتُونَهَا بِالْمَاءِ" ⦗٥٣٠⦘ حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ هَذَا، وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ اخْتَلَفُوا فِي اسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ، فَقِيلَ هَكَذَا، وَقِيلَ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْقَعْقَاعِ، وَقِيلَ: ابْنُ أَبِي الْقَعْقَاعِ، وَقِيلَ: مَالِكُ بْنُ الْقَعْقَاعِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشروب کا پیالہ لایا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے قریب کیا تو اس سے ناگوار بو محسوس کی تو کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ کیا یہ حرام ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دو“ اور پھر لے کر اس میں پانی ملایا اور فرمایا: ”جب تم اپنے مشروب کو اس طرح سخت دیکھو تو اس کی سختی کو پانی سے توڑ دو۔“
یہ حدیث اسی عبدالملک بن نافع کے ذریعے پہچانی جاتی ہے اور وہ مجہول آدمی ہے، اس کے اور اس کے والد کے نام میں اختلاف ہے: کہا گیا ہے کہ یہی نام ہے، اور کہا گیا ہے: عبدالملک بن قعقاع، اور کہا گیا ہے: ابن ابی قعقاع، اور کہا گیا ہے: مالک بن قعقاع۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17446]
یہ حدیث اسی عبدالملک بن نافع کے ذریعے پہچانی جاتی ہے اور وہ مجہول آدمی ہے، اس کے اور اس کے والد کے نام میں اختلاف ہے: کہا گیا ہے کہ یہی نام ہے، اور کہا گیا ہے: عبدالملک بن قعقاع، اور کہا گیا ہے: ابن ابی قعقاع، اور کہا گیا ہے: مالک بن قعقاع۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17446]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17447
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: أَرَأَيْتَ حَدِيثَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ الَّذِي يَرْوِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ فِي النَّبِيذِ؟ قَالَ: هُمْ يُضَعِّفُونَهُ قَالَ: وَأَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَقُولُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نَافِعٍ ابْنُ أَخِي الْقَعْقَاعِ بْنِ شَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي النَّبِيذِ، لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نَافِعٍ لَيْسَ بِمَشْهُورٍ، وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وَالْمَشْهُورُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُ حِكَايَتِهِ.
ابن ابی مریم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے کہا کہ نبیذ کے بارے میں عبدالملک بن نافع کی جو روایت اسماعیل بن ابی خالد بیان کرتے ہیں، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ محدثین اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالملک بن نافع، قعقاع بن شور کا بھتیجا، نبیذ کے بارے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتا ہے، اس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی۔
ابو عبدالرحمٰن نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالملک بن نافع مشہور نہیں ہے اور اس کی حدیث سے دلیل نہیں لی جاتی، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مشہور بات اس کے بیان کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17447]
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالملک بن نافع، قعقاع بن شور کا بھتیجا، نبیذ کے بارے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتا ہے، اس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی۔
ابو عبدالرحمٰن نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالملک بن نافع مشہور نہیں ہے اور اس کی حدیث سے دلیل نہیں لی جاتی، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مشہور بات اس کے بیان کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17447]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لابن معين»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17448
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: تَلَقَّتْ ثَقِيفٌ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِنَبِيذٍ،" فَوَجَدَهُ شَدِيدًا فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا".
ابن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ثقیف والے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نبیذ لائے، وہ سخت تھی تو آپ نے اس میں دو یا تین مرتبہ پانی ملا کر اسے پتلا کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17448]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح