🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3591. -- باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم
-- باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18030
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو بَكْرٍ ⦗١١٢⦘ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا نَحْوَ أَرْضِ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِيُّ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ" قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ، إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تُرِدِ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ"، فَقَالَ: عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ. فَرَدَّهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَرَدَّهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ". فَخَرَجَ ثُمَامَةُ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، يَا مُحَمَّدُ وَاللهِ مَا كَانَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ وَجْهِكَ، وَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ إِلِيَّ، وَاللهِ مَا كَانَ دِينٌ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ دِينِكَ وَقَدْ أَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الْأَدْيَانِ إِلِيَّ، وَوَاللهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ بَلَدِكَ، وَقَدْ أَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبُلْدَانِ كُلِّهَا إِلِيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ لَهُ رِجَالٌ بِمَكَّةَ: أَصَبَوْتَ يَا ثُمَامَةُ؟ فَقَالَ: لَا، وَاللهِ مَا صَبَوْتُ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهِ لَا يَأْتِيكُمْ حَبَّةُ حِنْطَةٍ مِنَ الْيَمَامَةِ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا، وہ دستہ ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر کے لایا جو یمامہ کے علاقے کا رئیس تھا، انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور اس سے دریافت فرمایا: ”اے ثمامہ! تیرا کیا حال ہے؟“ اس نے جواب دیا: میرا حال اچھا ہے، اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا اور اگر آپ احسان کریں گے تو احسان کا شکریہ ادا ہو گا اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو طلب کریں جتنا چاہتے ہو مال مل جائے گا، رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چھوڑ کر چلے گئے، جب دوسرا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حال دریافت فرمایا: ”ثمامہ! تمہارا کیا ذہن ہے؟“ اس نے جواب دیا: اگر آپ احسان کریں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان کا شکریہ ادا کیا جائے گا، اگر آپ قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا، اگر آپ مال چاہتے ہیں تو جتنا مال چاہتے ہیں اتنا ہی دیا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پھر چھوڑ کر چلے گئے، جب تیسرا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے وہی جواب دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثمامہ کو کھول دو۔“ چنانچہ وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں گیا، غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوا اور اس نے اقرار کیا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی چہرہ ایسا نہ تھا جو مجھے آپ کے چہرے سے زیادہ برا لگتا ہو مگر اب آپ کا چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب لگتا ہے، اللہ کی قسم! آپ کے دین سے زیادہ برا مجھے کوئی دین نہیں لگتا تھا مگر اب آپ کا دین تمام دینوں سے زیادہ محبوب لگتا ہے، اللہ کی قسم! آپ کے شہر سے زیادہ برا مجھے کوئی شہر نہیں لگتا تھا مگر اب مجھے آپ کا شہر تمام شہروں سے زیادہ اچھا لگتا ہے اور آپ کے لشکر نے مجھے اس وقت گرفتار کیا جب میں عمرہ ادا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، اب آپ کی کیا رائے ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خوشخبری دی اور فرمایا: ”جاؤ عمرہ ادا کرو۔“ جب وہ مکہ آیا تو کسی کہنے والے نے کہا: تو صابی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلام میں داخل ہو گیا ہوں، اللہ کی قسم! تمہارے پاس یمامہ کی گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آئے گا جب تک اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18030]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18031
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، ثنا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ إِسْلَامُ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ الْحَنَفِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا اللهَ حِينَ عَرَضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَرَضَ لَهُ أَنْ يُمَكِّنَهُ اللهُ مِنْهُ، وَكَانَ عَرَضَ لَهُ وَهُوَ مُشْرِكٌ فَأَرَادَ قَتْلَهُ، فَأَقْبَلَ ثُمَامَةُ مُعْتَمِرًا وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَتَحَيَّرَ فِيهَا حَتَّى أُخِذَ، وَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُبِطَ إِلَى عَمُودٍ مِنْ عُمُدِ الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا ثُمَامَةُ هَلْ أَمْكَنَ اللهُ مِنْكَ؟". قَالَ: وَقَدْ كَانَ ذَلِكَ يَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاكِرٍ، وَإِنْ تَسْأَلْ مَالًا تُعْطَهُ. فَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ مَرَّ بِهِ، فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا ثُمَامَ؟". فَقَالَ: خَيْرًا يَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاكِرٍ، وَإِنْ تَسْأَلْ مَالًا تُعْطَهُ. ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ ⦗١١٣⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَجَعَلْنَا - الْمَسَاكِينَ - نَقُولُ بَيْنَنَا: مَا نَصْنَعُ بِدَمِ ثُمَامَةَ؟، وَاللهِ لَأَكْلَةٌ مِنْ جَزُورٍ سَمِينَةٍ مِنْ فِدَائِهِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ دَمِ ثُمَامَةَ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ مَرَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا ثُمَامَ؟". فَقَالَ: خَيْرًا يَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاكِرٍ، وَإِنْ تَسَألْ مَالًا تُعْطَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْلِقُوهُ فَقَدْ عَفَوْتُ عَنْكَ يَا ثُمَامَ". فَخَرَجَ ثُمَامَةُ حَتَّى أَتَى حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَاغْتَسَلَ فِيهِ وَتَطَهَّرَ وَطَهَّرَ ثِيَابَهُ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، وَاللهِ لَقَدْ كُنْتَ وَمَا وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ وَجْهِكَ، وَلَا دِينَ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْ دِينِكَ، وَلَا بَلَدَ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْ بَلَدِكَ، ثُمَّ لَقَدْ أَصْبَحْتَ وَمَا وَجْهٌ أَحَبَّ إِلِيَّ مِنْ وَجْهِكَ، وَلَا دِينَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ دِينِكَ، وَلَا بَلَدَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ بَلَدِكَ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ قَدْ خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا وَأَنَا عَلَى دِينِ قَوْمِي، فَبَشِّرْنِي صَلَّى الله عَلَيْكَ فِي عُمْرَتِي. فَبَشَّرَهُ وَعَلَّمَهُ، فَخَرَجَ مُعْتَمِرًا، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ وَسَمِعَتْهُ قُرَيْشٌ يَتَكَلَّمُ بِأَمْرِ مُحَمَّدٍ مِنَ الْإِسْلَامِ، قَالُوا: صَبَأَ ثُمَامَةُ، فَأَغْضَبُوهُ، فَقَالَ: إِنِّي وَاللهِ مَا صَبَوْتُ، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ مُحَمَّدًا، وَآمَنْتُ بِهِ، وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ ثُمَامَةَ بِيَدِهِ لَا يَأْتِيكُمْ حَبَّةٌ مِنَ الْيَمَامَةِ، وَكَانَتْ رِيفَ مَكَّةَ، مَا بَقِيتُ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَانْصَرَفَ إِلَى بَلَدِهِ، وَمَنَعَ الْحَمْلَ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى جَهَدَتْ قُرَيْشٌ، فَكَتَبُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ بِأَرْحَامِهِمْ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى ثُمَامَةَ يُخَلِّي إِلَيْهِمْ حَمْلَ الطَّعَامِ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ثمامہ بن اثال حنفی کے اسلام کا واقعہ پیش آیا۔ جب ثمامہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درپے ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا فرمائی کہ اللہ آپ کو اس پر قابو دے دے، وہ ابھی مشرک ہی تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درپے ہوا تھا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ پھر ثمامہ حالت شرک میں عمرہ کی غرض سے مدینہ میں سے گزر رہا تھا کہ صحابہ نے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں پیش کر دیا۔ آپ کے حکم سے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”اے ثمامہ! کیا حال ہے؟ کیا اللہ نے تیرے اوپر غلبہ دے دیا ہے؟“ اس نے کہا: ”اے محمد! اگر تو مجھے قتل کر دے تو ایسے شخص کو قتل کرو گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم معاف کریں گے تو معافی کا شکریہ ادا کیا جائے گا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال چاہتے ہیں تو مال بھی دیا جائے گا۔“ اسے اس حالت میں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے۔ دوسرے دن پھر آئے اور پوچھا: ”تیرا کیا حال ہے ثمامہ!“ اس نے کہا: ”میرا حال اچھا ہے اے محمد! اگر مجھے قتل کر دیں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ معاف کر دیں تو معاف کرنے کا شکریہ ادا ہوگا۔ اگر مال طلب کرو تو دیا جائے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر چلے گئے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مسکین بیٹھ کر ثمامہ کے خون کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ اللہ کی قسم! ثمامہ کے خون کی بجائے اس کے مقابلے میں موٹے تازے اونٹ فدیہ میں زیادہ بہتر رہیں گے۔ پھر صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”ثمامہ کیا حال ہے؟“ اس نے کہا: ”میرا حال اچھا ہے اے محمد! اگر قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ معاف کر دیں تو معاف کرنے کا شکریہ ادا ہوگا۔ اگر مال طلب کرو گے تو مال بھی دیا جائے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثمامہ کو رہا کر دو۔ اے ثمامہ! میں نے تجھے معاف کر دیا۔“ پھر ثمامہ نے مدینہ کے کسی باغ میں غسل کر کے اپنے کپڑوں اور جسم کو پاک کیا اور واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں تشریف فرما تھے۔ اس نے کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تیرے چہرے سے بڑھ کر کوئی چہرہ میرے نزدیک برا نہ تھا، آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین میرے لیے برا نہ تھا اور آپ کے شہر سے زیادہ برا کوئی شہر مجھے نہیں لگتا تھا۔“ پھر اس نے کہا: ”اب آپ کے چہرے سے بڑھ کر کوئی چہرہ محبوب نہیں، آپ کے دین سے بڑھ کر کوئی دین اچھا نہیں لگتا اور آپ کے شہر سے بڑھ کر کوئی شہر اچھا نہیں لگتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کے دین پر ہی عمرہ کے لیے نکلا تھا، آپ میرے عمرہ کے بارے میں خوشخبری دیں۔ اللہ آپ پر رحمت فرمائے۔“ آپ نے خوشخبری بھی دی اور طریقہ بھی سکھایا۔ وہ عمرہ کی غرض سے نکلے۔ جب وہ مکہ آئے تو قریشیوں نے ان سے آپ کے دین کے بارے میں سنا تو کہنے لگے کہ ثمامہ بے دین ہو گیا ہے۔ انہوں نے ثمامہ کو غصہ دلایا۔ ثمامہ کہنے لگے: ”میں بے دین نہیں ہوا، میں نے اسلام قبول کیا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لایا۔ اللہ کی قسم! تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہ آئے گا (اور یمامہ سرسبز جگہ تھی) جب تک میں ہوں لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دے دیں۔“ وہ اپنے شہر واپس چلے گئے۔ جا کر مکہ کا غلہ روک دیا یہاں تک کہ قریش مشکل میں پڑ گئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رشتہ داریوں کا واسطہ دے کر سوال کیا کہ آپ ثمامہ کو خط لکھیں کہ وہ غلہ روانہ کر دے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ کو غلہ روانہ کرنے کا حکم صادر فرما دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18031]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18032
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: وَأَقْبَلَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَبْ لِي الزُّبَيْرَ الْيَهُودِيَّ أَجْزِيهِ، فَقَدْ كَانَتْ لَهُ عِنْدِي يَوْمَ بُعَاثٍ. فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَقْبَلَ ثَابِتٌ حَتَّى أَتَاهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَلْ تَعْرِفُنِي؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَهَلْ يُنْكِرُ الرَّجُلُ أَخَاهُ؟ قَالَ ثَابِتٌ: أَرَدْتُ أَنْ أَجْزِيَكَ الْيَوْمَ بِيَدٍ لَكَ عِنْدِي يَوْمَ بُعَاثٍ. قَالَ: فَافْعَلْ فَإِنَّ الْكَرِيمَ يَجْزِي الْكَرِيمَ. قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَهَبَكَ لِي. فَأَطْلَقَ عَنْهُ إِسَارَهُ. فَقَالَ الزُّبَيْرُ: لَيْسَ لِي قَائِدٌ وَقَدْ أَخَذْتُمُ امْرَأَتِي وَبَنِيَّ. فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: رَدَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَتَكَ وَبَنِيكَ. فَقَالَ الزُّبَيْرُ: حَائِطٌ لِي فِيهِ أَعْذُقٌ لَيْسَ لِي وَلَا لِأَهْلِي عَيْشٌ إِلَّا بِهِ. فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَهَبَ لَهُ، فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ: قَدْ رَدَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَكَ وَمَالَكَ فَأَسْلِمْ تَسْلَمْ. قَالَ: مَا فَعَلَ الْجَلِيسَانِ، وَذَكَرَ رِجَالَ قَوْمِهِ، قَالَ ثَابِتٌ: قَدْ قُتِلُوا وَفُرِغَ مِنْهُمْ، وَلَعَلَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يَكُونَ أَبْقَاكَ لَخَيْرٍ. قَالَ الزُّبَيْرُ: أَسْأَلُكَ بِاللهِ يَا ثَابِتُ وَبِيَدِي الْخَصِيمِ عِنْدَكَ يَوْمَ بُعَاثٍ إِلَّا أَلْحَقْتَنِي بِهِمْ، فَلَيْسَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ بَعْدَهُمْ. ⦗١١٤⦘ فَذَكَرَ ذَلِكَ ثَابِتٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِالزُّبَيْرِ فَقُتِلَ." وَذَكَرَهُ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَذَكَرَ أَنَّهُ الزُّبَيْرُ بْنُ بَاطَا الْقُرَظِيُّ، وَذَكَرَهُ أَيْضًا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ يَوْمَئِذٍ كَبِيرًا أَعْمَى".
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ مجھے زبیر یہودی ہبہ کر دیں تاکہ بعاث کے احسان کا بدلہ دیا جا سکے، جو اس نے میرے اوپر کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہبہ کر دیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ زبیر سے پوچھتے ہیں: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں! کیا کوئی شخص اپنے بھائی کو نہ پہچانے گا؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں تیرے بعاث کے دن کے احسان کا بدلہ دینا چاہتا ہوں۔ زبیر یہودی نے کہا: بدلہ دو، معزز انسان کسی معزز کا ہی بدلہ دیتا ہے۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مجھے ہبہ فرما دیا تھا۔ میں نے اپنے اس قیدی کو آزاد کر دیا تو زبیر نے کہا: میری بیوی اور بچے؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری بیوی اور بچے بھی واپس کر دیے ہیں۔ زبیر کہنے لگا: میرا وہ باغ جس پر میرے گھر والوں کی گزر اوقات تھی؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بھی ہبہ کر دیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا اہل و عیال اور مال واپس کر دیا ہے، ”مسلمان ہو جاؤ، محفوظ ہو جاؤ گے۔“ تو زبیر نے کہا: میرے ان دو ساتھیوں کا کیا بنا؟ اس نے اپنی قوم کے اشخاص کا تذکرہ کیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کے قتل سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے، شاید کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھلائی کے لیے ہی باقی رکھا ہے، تو زبیر نے کہا: اے ثابت! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ تم میرے احسان کا بدلہ تب ہی ادا کر سکو گے جب مجھے بھی میرے ان ساتھیوں کے ساتھ ملا دو، کیونکہ ان کے بعد میری زندگی اچھی نہیں ہے، چنانچہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو زبیر کے قتل کا حکم دے دیا گیا۔ (ب) موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ ذکر کرتے ہیں کہ وہ اس دن بوڑھا اور نابینا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18032]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18033
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُسَارَى بَدْرٍ:" لَوْ كَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا فَكَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَخَلَّيْتُهُمْ لَهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد (سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کے بارے میں فرمایا: ”اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا تو وہ مجھ سے ان بدبودار اشخاص کے بارے میں کلام کرتا تو اس کی وجہ سے میں ان کو رہا کردیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18033]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٣١٣٩-٤٠٢٤»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18034
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنَبٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ" ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَفَا عَنْهُمْ، قَالَ: وَنَزَلَ الْقُرْآنُ: {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ} [الفتح: ٢٤] . أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادٍ.
ثابت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مکہ کے اسی افراد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم پر جبل تنعیم سے اتر کر نماز فجر کے وقت حملے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑ کر معاف کر دیا۔ قرآن نازل ہوا: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ﴾ [سورة الفتح: 24] ”کہ اللہ نے ان کے ہاتھوں سے تمہیں بچایا اور تمہارے ہاتھوں سے ان کو مکہ کی وادی میں محفوظ رکھا تمہارے غلبہ حاصل کر لینے کے بعد۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18034]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٨٠٨»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18035
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَزَلَ مَنْزِلًا وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ تَحْتَهَا، فَعَلَّقَ النَّاسُ سِلَاحَهُمْ فِي شَجَرَةٍ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى سَيْفِهِ فَأَخَذَهُ وَسَلَّهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللهُ". فَشَامَ الْأَعْرَابِيُّ السَّيْفَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ وَأَخْبَرَهُمْ بِصَنِيعِ الْأَعْرَابِيِّ وَهُوَ جَالِسٌ إِلَى جَنْبِهِ لَمْ يُعَاقِبْهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَحْمُودٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ فرمایا تو لوگ کانٹے دار درختوں کے سایہ کی تلاش میں نکلے۔ لوگوں نے اپنا اسلحہ درختوں پر لٹکا دیا۔ ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پکڑ کر سونت کر کہنے لگا: ”آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ۔“ دیہاتی نے تلوار رکھ دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو بلایا اور دیہاتی کی حرکت کی خبر دی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سزا نہ دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18035]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18036
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ نَحْوَ ⦗١١٥⦘ هَذَا، وَيَذْكُرُ أَنَّ قَوْمًا مِنَ الْعَرَبِ أَرَادُوا أَنْ يَفْتِكُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلُوا هَذَا الْأَعْرَابِيَّ، وَيَتْلُو: {اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ} الْآيَةَ".
قتادہ رحمہ اللہ اس کی مثل ذکر کرتے ہیں کہ عرب کی ایک قوم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکے سے قتل کرنے کی سازش کی تو انہوں نے اس دیہاتی کو بھیجا، پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ﴾ [سورة المائدة: 11] ”تم اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب ایک قوم نے (ہلاک) کرنے کا قصد کیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18036]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18037
وَأَمَّا الْمُفَادَاةُ بِالنَّفْسِ، فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ بْنِ وَاقِدٍ الْكِلَابِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتْ ثَقِيفٌ حُلَفَاءَ لِبَنِي عَقِيلٍ، فَأَسَرَتْ ثَقِيفٌ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَأَصَابُوا مَعَهُ الْعَضْبَاءَ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْوَثَاقِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَأَتَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟". فقَالَ: بِمَ أَخَذْتَنِي، وَبِمَ أَخَذْتَ سَابِقَ الْحَاجِّ؟ فَقَالَ:" إِعْظَامًا لِذَاكَ أُخِذْتَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ". ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ، فَنَادَاهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟". فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ. قَالَ:" لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ". ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَأَتَاهُ فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟". فَقَالَ: إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي. قَالَ:" هَذِهِ حَاجَتُكَ". قَالَ: فَفُدِيَ بِالرَّجُلَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ثقیف بنو عقیل کے حلیف تھے، تو بنو ثقیف نے دو صحابہ کو قیدی بنا لیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بنو عقیل کے ایک آدمی کو قید کر لیا اور اس کے ساتھ عضباء (اونٹنی) بھی پکڑ لی۔ وہ بندھا ہوا تھا، اسی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو اس نے آواز دی: اے محمد! اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: آپ نے مجھے کس جرم کی پاداش میں گرفتار کیا ہے؟ اور حاجیوں سے آگے نکلنے والی (اونٹنی عضباء) کو کیوں پکڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بڑی بات ہے، تو اپنے حلیف بنو ثقیف کے جرم کی وجہ سے پکڑا گیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے۔ اس نے آواز دی: اے محمد! اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحیم اور رقیق القلب تھے، اس لیے واپس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیری کیا حالت ہے؟“ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات تو تب کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا تو مکمل فلاح پا لیتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر چلے گئے۔ اس نے آواز دی: اے محمد! اے محمد! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”تیری کیا حالت ہے؟“ اس نے کہا: میں بھوکا ہوں، کھانا کھلاؤ، پیاسا ہوں، پانی پلاؤ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری ضرورت ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ دو صحابہ کے عوض اس کو چھوڑا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18037]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٦٤»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18038
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَدَى رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَى رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ"." قَالَ سُفْيَانُ:" يَعْنِي أَخَذَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَى رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے دو آدمیوں کے فدیے میں مشرکین کا ایک آدمی دیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے دو آدمی لیے اور مشرکین کا ایک آدمی دیا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18038]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18039
وَأَمَّا الْمُفَادَاةُ بِالْمَالِ فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَكَانَ أَكْثَرُ حَدِيثِهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ:" مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى؟". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةُ ⦗١١٦⦘ وَالْإِخْوَانُ، غَيْرَ أَنَّا نَأْخُذُ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ؛ لِيَكُونَ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْمُشْرِكِينَ، وَعَسَى الله عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَهْدِيَهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَيَكُونُوا لَنَا عَضُدًا. قَالَ:" فَمَاذَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟". قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ وَلَكِنْ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهُمْ فَقَرِّبْهُمْ وَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ. قَالَ: فَهَوِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ أَنَا، فَأَخَذَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَانِ يَبْكِيَانِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أِيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ، وَإِلَّا تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا. قَالَ: الَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُكُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، وَشَجَرَةٌ قُرَيْبَةٌ حِينَئِذٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ} [الأنفال: ٦٧] الْآيَةَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، زَادَ إِلَى قَوْلِهِ: {فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال: ٦٩] ، فَأَحَلَّ اللهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْقَسْمِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں (ان کی اکثر احادیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہیں): جب بدر کا دن تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارا ان قیدیوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے: اے اللہ کے نبی! یہ ہمارے چچا کے بیٹے، خاندان کے لوگ اور ہمارے بھائی ہیں، اگر ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیں تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دے اور ہمیں مشرکین کے خلاف مالی قوت بھی حاصل ہوجائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے ابن خطاب! تیرا کیا خیال ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میری رائے ابوبکر رضی اللہ عنہ والی نہیں ہے بلکہ یہ کفر کے سردار ہیں، ان کے سر تن سے جدا کر دیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کو قبول فرمایا اور میری رائے قبول نہ فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فدیہ لے لیا۔ جب صبح ہوئی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، دیکھتا ہوں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے بتائیں کہ آپ کو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کس چیز نے رونے پر مجبور کر دیا ہے؟ اگر رونے کی وجہ ہو تو میں بھی رو لوں یا پھر آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے (ہی) رو لوں۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کی وجہ سے جو تمہارے ساتھیوں نے (فدیہ لینے کے بارے میں) میرے سامنے پیش کی، تمہارا عذاب مجھے اس درخت سے بھی زیادہ قریب دکھایا گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ﴾ [سورة الأنفال: 67] ”کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں (دشمن کا) خون بہا لے۔ تم دنیا کا مال و متاع چاہتے ہو اور اللہ آخرت کا ارادہ رکھتا ہے۔““ (ب) عکرمہ بن عمار رحمہ اللہ نے کچھ اضافہ کیا ہے: ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ [سورة الأنفال: 69] ”پس جو کچھ تم نے غنیمت پایا ہے اسے حلال اور طیب سمجھ کر کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18039]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٧٦٣»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں