السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3628. -- باب: ما أحرزه المشركون على المسلمين
-- باب: مشرکین جو مال مسلمانوں سے چھین کر محفوظ کر لیں اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18243
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَقِيلٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَأُخِذَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ، وَسُبِيَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَتِ النَّاقَةُ أُصِيبَتْ قَبْلَهَا، فَكَانَتْ تَكُونُ مَعَهُمْ وَكَانُوا يَجِيئُونَ بِالنَّعَمِ إِلَيْهِمْ. قَالَ: فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ الْوَثَاقِ فَأَتَتِ الْإِبِلَ فَجَعَلَتْ كُلَّمَا أَتَتْ بَعِيرًا رَغَا ⦗١٨٥⦘ حَتَّى أَتَتْ تِلْكَ النَّاقَةَ فَشَنَقَتْهَا، فَلَمْ تَرْغُ وَهِيَ نَاقَةٌ هُدَرَةٌ، فَقَعَدَتْ فِي عَجُزِهَا ثُمَّ صَاحَتْ بِهَا فَانْطَلَقَتْ، فَطُلِبَتْ مِنْ لَيْلَتِهَا فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهَا، فَجَعَلَتْ لِلَّهِ عَلَيْهَا إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا. قَالُوا: لَا وَاللهِ لَا تَنْحَرِنَّهَا حَتَّى نُؤْذِنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ فُلَانَةَ قَدْ جَاءَتْ عَلَى نَاقَتِكَ، وَأَنَّهَا جَعَلَتْ لِلَّهِ عَلَيْهَا إِنْ أَنْجَاهَا اللهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سُبْحَانَ اللهِ بِئْسَ مَا جَزَتْهَا، إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهِ لَتَنْحَرَنَّهَا؟ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِيمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ". أَوْ قَالَ:" ابْنُ آدَمَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے بنو عقیل کا ایک شخص قیدی بنا لیا، پھر انھوں نے حدیث کو ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پکڑ لی گئی اور ایک انصاری عورت قیدی بنا لی گئی۔ اونٹنی اس سے پہلے پکڑ لی گئی تھی، وہ ان میں موجود تھی اور وہ اپنے جانور لے کر ان کے پاس آئے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک دن وہ زنجیروں سے کھل گئی اور اونٹوں کے باڑے میں آئی، وہ جس اونٹ کے پاس بھی آئی اس نے آواز نکالی، جب وہ عورت اس اونٹنی کے پاس آئی اور اس اونٹنی کو لگام دی تو اس نے آواز نہ نکالی، وہ بلبلانے والی اونٹنی تھی۔ وہ عورت اس پر سوار ہوگئی اور اسے چلایا، اس عورت کو تلاش کیا گیا لیکن وہ اس پر قادر نہ ہو سکے۔ اس عورت نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے مجھے نجات دی تو وہ اس اونٹنی کو ذبح کر دے گی۔ جب وہ عورت آئی تو صحابہ نے اونٹنی پہچان لی کہ یہ اونٹنی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے، اس عورت نے کہا کہ میں نے تو نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ اس اونٹنی کو ذبح کر دے گی۔ صحابہ نے کہا: ”اس اونٹنی کو ذبح نہ کرنا یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیں۔“ صحابہ نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ فلاں عورت آپ کی اونٹنی پر آئی ہے اور اس نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ اس کو ذبح کر دے گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! برا بدلہ ہے کہ اگر اللہ نے اسے نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی۔ اللہ کی نافرمانی میں مانی گئی نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ہے اور نہ اس نذر کو پورا کیا جائے گا جس کا بندہ مالک نہیں رہا۔“ (یا فرمایا: ”ابنِ آدم مالک نہیں رہا۔“) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18243]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٦٤١»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18244
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْحِيرِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عَقِيلٍ، وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ، فَأُسِرَ الرَّجُلُ، وَأُخِذَتِ الْعَضْبَاءُ. قَالَ: فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي وَثَاقٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ فُدِيَ بِالرَّجُلَيْنِ، وَحَبَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءَ لِرَحْلِهِ، ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ فَذَهَبُوا بِهِ، وَكَانَتِ الْعَضْبَاءُ فِي ذَلِكَ السَّرْحِ، وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ انْقِلَابِهَا بِنَحْوٍ مِنْ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عصباء اونٹنی بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی اور یہ اونٹنی حاجیوں سے سبقت لے جانے والی تھی۔ اس شخص کو قیدی بنا لیا گیا اور اونٹنی پکڑ لی گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے، وہ جکڑا ہوا تھا۔ پھر اس شخص کو دو آدمیوں کے عوض چھوڑ دیا گیا اور عصباء اونٹنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے لیے رکھ لی۔ پھر مشرکین نے مدینہ کے مویشیوں پر حملہ کیا تو اسے بھی لے گئے اور عصباء اونٹنی بھی ان جانوروں میں تھی۔ انھوں نے مسلمانوں کی ایک عورت کو بھی قید کر لیا، پھر راوی نے اس عورت کے آنے کا بھی تذکرہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18244]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18245
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ قَوْمًا أَغَارُوا فَأَصَابُوا امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ وَنَاقَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ وَالنَّاقَةُ عِنْدَهُمْ، ثُمَّ انْفَلَتَتِ الْمَرْأَةُ فَرَكِبَتِ النَّاقَةَ فَأَتَتِ الْمَدِينَةَ، فَعُرِفَتْ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ لَئِنْ نَجَّانِي اللهُ عَلَيْهَا لَأَنْحَرَنَّهَا. فَمَنَعُوهَا أَنْ تَنْحَرَهَا حَتَّى يَذْكُرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" بِئْسَ مَا جَزَيْتِهَا أَنْ نَجَّاكِ اللهُ عَلَيْهَا أَنْ تَنْحَرِيهَا، لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ". وَقَالَا مَعًا أَوْ أَحَدُهُمَا فِي الْحَدِيثِ: وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ. ⦗١٨٦⦘ زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَدْ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ بَعْدَ مَا أَحْرَزَهَا الْمُشْرِكُونَ وَأَحْرَزَتْهَا الْأَنْصَارِيَّةُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ.
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی قوم نے شب خون مارا اور ایک انصاری عورت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو پکڑ لیا، یہ عورت اور اونٹنی ان کے پاس تھیں، پھر وہ عورت اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ آگئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پہچان لی گئی۔ اس عورت نے کہا: میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے نجات دے دی تو میں اس کو ذبح کر دوں گی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے ذبح کرنے سے منع فرما دیا یہاں تک کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے برا بدلہ دیا ہے! کہ اگر اللہ تجھے اس پر نجات دے تو اسے ذبح کرے گی؟ اللہ کی نافرمانی میں کوئی نذر نہیں اور ابن آدم جس چیز کا مالک نہیں اس کی بھی نذر نہیں۔“ دونوں یا ایک حدیث میں اکٹھے ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی لے لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18245]
حدیث نمبر: 18246
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ طَلْحَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي رُومَا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَامِلًا لَهُمْ أَبَقَ إِلَى الْعَدُوِّ، ثُمَّ ظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ، فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَكُنْ قَسَمَ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنْ صَالِحِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى.
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ان کا غلام دشمن کی جانب بھاگ گیا، پھر مسلمانوں نے ان پر غلبہ پا لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تقسیم نہ فرمایا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18246]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18247
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" أَنَّ غُلَامًا لَهُ لَحِقَ بِالْعَدُوِّ عَلَى فَرَسٍ لَهُ، فَظَهَرَ عَلَيْهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرَدَّهُمَا عَلَيْهِ". كَذَا قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَقَدْ بَيَّنَ عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ مَا كَانَ مِنْهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا كَانَ بَعْدَهُ.
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا غلام دشمنوں سے ان کے گھوڑے سمیت جا ملا تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے دونوں کو قبضے میں لے لیا اور انہیں واپس کر دیا۔
ابو معاویہ نے اسی طرح بیان کیا ہے، جبکہ عبداللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے واضح بیان کیا ہے کہ کون سا واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا اور کون سا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18247]
ابو معاویہ نے اسی طرح بیان کیا ہے، جبکہ عبداللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے واضح بیان کیا ہے کہ کون سا واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا اور کون سا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18247]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18248
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، الْمَعْنَى قَالَا: ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ هُوَ ⦗١٨٧⦘ ابْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: ذَهَبَتْ لَهُ فَرَسٌ فَأَخَذَهَا الْعَدُوُّ، فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّتْ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَأَبَقَ عَبْدٌ لَهُ فَلَحِقَ بِالرُّومِ، فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: ثنا عُبَيْدُ اللهِ، فَذَكَرَهُ.
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا گھوڑا بھاگ گیا، جسے دشمنوں نے پکڑ لیا تو مسلمانوں نے ان پر غلبہ پا لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ان کو واپس کر دیا گیا۔ فرماتے ہیں: ان کا غلام بھاگ کر رومیوں کے ساتھ جا ملا، مسلمان ان پر غالب آگئے تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد واپس کر دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18248]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٣٠٦٨-٩٠٦٩»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18249
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ يَوْمَ لَقِيَ الْمُسْلِمُونَ طَيِّئًا وَأَسَدًا، وَأَمِيرُ الْمُسْلِمِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعَثَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَاقْتَحَمَ الْفَرَسُ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ جُرُفًا فَصَرَعَهُ، وَسَقَطَ عَبْدُ اللهِ، فَعَارَ الْفَرَسُ فَأَخَذَهُ الْعَدُوُّ، فَلَمَّا هَزَمَ اللهُ الْعَدُوَّ رَدَّ خَالِدٌ عَلَى عَبْدِ اللهِ فَرَسَهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ فَيُحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ الْعَبْدُ هُوَ الَّذِي رُدَّ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْفَرَسُ بَعْدَهُ لِيَكُونَ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثُمَّ رِوَايَةِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ هَذِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ أَمْرُ الْقِسْمَةِ، وَلَعَلَّهُ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى مِنْ قَوْلِ بَعْضِ الرُّوَاةِ دُونَ ابْنِ عُمَرَ.
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھے، جب مسلمانوں نے قبیلہ طیء اور اسد سے لڑائی کی تو مسلمانوں کے امیر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے جنہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مقرر فرمایا تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گھوڑا انہیں لے کر ایک کھائی میں کود پڑا، اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو گرا دیا، گھوڑا بھاگ گیا تو دشمن نے اسے پکڑ لیا، جب دشمن کو اللہ تعالیٰ نے شکست دی تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو گھوڑا واپس کر دیا
نوٹ: احتمال ہے کہ غلام کی واپسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہوئی ہو اور گھوڑا بعد میں واپس کیا گیا ہو، تاکہ یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی روایت اور پھر موسیٰ بن عقبہ کی اس روایت میں موافقت ہو جائے، واللہ اعلم۔ ان روایات میں سے کسی میں تقسیم کا تذکرہ نہیں ہے، شاید یحییٰ کی روایت میں یہ بات ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بجائے کسی راوی کا قول ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18249]
نوٹ: احتمال ہے کہ غلام کی واپسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہوئی ہو اور گھوڑا بعد میں واپس کیا گیا ہو، تاکہ یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی روایت اور پھر موسیٰ بن عقبہ کی اس روایت میں موافقت ہو جائے، واللہ اعلم۔ ان روایات میں سے کسی میں تقسیم کا تذکرہ نہیں ہے، شاید یحییٰ کی روایت میں یہ بات ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بجائے کسی راوی کا قول ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18249]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18250
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثِّقَةُ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، لَا أَحْفَظُ عَمَّنْ رَوَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِيمَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ مِمَّا غَلَبُوا عَلَيْهِ أَوْ أَبَقَ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ أَحْرَزَهُ الْمُسْلِمُونَ:" مَالِكُوهُ أَحَقُّ بِهِ قَبْلَ الْقَسْمِ وَبَعْدَهُ.
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب دشمن مسلمانوں کا مال ان پر غلبے کی صورت میں حاصل کر لے یا کوئی چیز ان کی طرف بھاگ جائے، پھر مسلمانوں نے اس مال کو حاصل کر لیا تو مال کے مالک تقسیم سے پہلے اور بعد میں اس مال کے زیادہ حق دار ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18250]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18251
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصَابَ الْمُشْرِكُونَ فَرَسًا لَهُمْ زَمَنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَكَانُوا أَحْرَزُوهُ فَأَصَابَهُ مُسْلِمُونَ زَمَنَ سَعْدٍ، فَكَلَّمْنَاهُ فَرَدَّهُ عَلَيْنَا بَعْدَ مَا قُسِمَ وَصَارَ فِي خُمُسِ الْإِمَارَةِ.
رکین بن ربیع فزاری اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دور میں مشرکوں نے ان کا گھوڑا قبضے میں لے لیا، پھر مسلمانوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے دور میں اسے واپس حاصل کر لیا۔ ہم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے بات کی تو انہوں نے مال کی تقسیم کے بعد اسے ہمیں واپس کر دیا اور یہ خلیفہ کے خمس والے مال میں سے تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18251]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح