🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3649. -- باب: السواد
-- باب: سواد (عراق کے زرخیز علاقے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18367
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَسَدِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَهْلِ السَّوَادِ، أَلَهُمْ عَهْدٌ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ لَهُمْ عَهْدٌ، فَلَمَّا رُضِيَ مِنْهُمْ بِالْخَرَاجِ صَارَ لَهُمُ الْعَهْدُ.
محمد بن قیس اسدی، امام شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں اہل سواد کے بارے میں پوچھا گیا: کیا ان کے لیے کوئی عہد تھا؟ کہتے ہیں کہ ان کے لیے نہیں تھا، جب رضا مندی سے خراج لیا جانے لگا تو ان کے لیے معاہدہ بن گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18367]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18368
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: وَرَدَّ إِلَيْهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَرْضَهُمْ وَصَالَحَهُمْ عَلَى الْخَرَاجِ.
حسن بن صالح، ابن ابی لیلیٰ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی زمینیں واپس کر دیں اور خراج پر ان سے صلح کر لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18368]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18369
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حِينَ افْتَتَحَ الْعِرَاقَ: أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ بَلَغَنِي كِتَابُكَ تَذْكُرُ أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوكَ أَنْ تَقْسِمَ بَيْنَهُمْ مَغَانِمَهُمْ وَمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِمْ، فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَانْظُرْ مَا أَجْلَبَ النَّاسُ عَلَيْكَ إِلَى الْعَسْكَرِ مِنْ كُرَاعٍ أَوْ مَالٍ فَاقْسِمْهُ بَيْنَ مَنْ حَضَرَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَاتْرُكِ الْأَرَضِينَ وَالْأَنْهَارَ لِعُمَّالِهَا، فَيَكُونُ ذَلِكَ فِي أَعْطِيَاتِ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّكَ إِنْ قَسَمْتَهَا بَيْنَ مَنْ حَضَرَ لَمْ يَكُنْ لِمَنْ بَقِيَ بَعْدَهُمْ شَيْءٌ.
یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو عراق کی فتح کے موقع پر خط لکھا: حمد و ثنا کے بعد! مجھے آپ کا خط ملا جس میں آپ نے تذکرہ کیا ہے کہ لوگ آپ سے مالِ غنیمت کی تقسیم کا سوال کرتے ہیں اور جو اللہ نے آپ پر لوٹایا ہے؛ جب میرا خط آپ کے پاس آئے تو دیکھنا، جو گھوڑے یا مال لوگ لشکر میں آپ کے پاس لائے ہیں اس کو موجود مسلمانوں کے اندر تقسیم کر دیں، زمینیں اور نہریں ان پر کام کرنے والوں کے لیے چھوڑ دیں، تاکہ یہ (آمدنی) مسلمانوں کے وظائف میں شامل ہو۔ اگر آپ نے موجود لوگوں کے اندر ہی تقسیم کر دیا تو بعد والوں کے لیے کچھ نہ بچے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18369]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18370
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَقْسِمَ أَهْلَ السَّوَادِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَ بِهِمْ أَنْ يُحْصَوْا، فَوَجَدُوا الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ يُصِيبُهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْفَلَّاحِينَ، يَعْنِي الْعُلُوجَ، فَشَاوَرَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: دَعْهُمْ يَكُونُونَ مَادَّةً لِلْمُسْلِمِينَ، فَبَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ فَوَضَعَ عَلَيْهِمْ ثَمَانِيَةً وَأَرْبَعِينَ وَأَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ وَاثْنَيْ عَشَرَ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اہل سواد کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنے کا ارادہ کیا اور ان کے بارے میں حکم دیا کہ ان کو شمار کیا جائے۔ تو انہوں نے دیکھا کہ ہر مسلمان آدمی کے حصے میں تین کسان (عجمی کاشتکار) آتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ انہیں چھوڑ دیں، یہ مسلمانوں کے لیے (آمدنی کا) ذریعہ بنے رہیں۔ انہوں نے عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو بھیجا جنہوں نے ان پر 48، 24 اور 12 (درہم ٹیکس) مقرر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18370]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18371
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي حُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصْفَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ هَذَا السَّوَادِ عَشَرَةَ أَصْنَافٍ، أَصْفَى أَرْضَ مَنْ قُتِلَ فِي الْحَرْبِ، وَمَنْ هَرَبَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ⦗٢٢٧⦘ يَعْنِي إِلَيْهِمْ، وَكُلَّ أَرْضٍ لِكِسْرَى، وَكُلَّ أَرْضٍ كَانَتْ لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِهِ، وَكُلَّ مَغِيضِ مَاءٍ، وَكُلَّ دَيْرِ بَرِيدٍ. قَالَ: وَنَسِيتُ أَرْبَعًا. قَالَ: وَكَانَ خَرَاجُ مَنْ أَصْفَى سَبْعَةَ آلَافِ أَلْفٍ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجَمَاجِمُ أَحْرَقَ النَّاسُ الدِّيوَانَ وَأَخَذَ كُلُّ قَوْمٍ مَا يَلِيهِمْ.
عبدالملک بن ابی حرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سواد کی دس اقسام اپنے لیے خاص کر لیں: (1) لڑائی میں قتل ہونے والے کی زمین، (2) جو کفار کی جانب بھاگ جائے، (3) کسریٰ کی تمام زمین، (4) تمام وہ زمین جو کسریٰ کے خاندان کے کسی فرد کی تھی، (5) پانی جمع ہونے کی ہر جگہ (دلدلی زمین)، (6) ڈاک کی ہر چوکی؛ کہتے ہیں کہ چار اشیاء میں بھول گیا۔ ان کا کل خراج ستر لاکھ بنتا تھا۔ جب (دیر) جماجم کی لڑائی ہوئی تو لوگوں نے رجسٹر جلا ڈالے اور جو کسی کے ہاتھ آئی اس پر قبضہ کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18371]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18372
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصْفَى حُذَيْفَةُ أَرْضَ كِسْرَى وَأَرْضَ آلِ كِسْرَى وَمَنْ كَانَ كِسْرَى أَصْفَى أَرْضَهُ، وَأَرْضَ مَنْ قُتِلَ وَمَنْ هَرَبَ، وَالْآجَامَ وَمَغِيضَ الْمَاءِ.
بنو اسد کے ایک فرد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کسریٰ اور آلِ کسریٰ کی زمین اپنے لیے خاص کر لی، اور جن لوگوں کی زمین کسریٰ نے اپنے لیے خاص کر رکھی تھی (وہ بھی)، اور لڑائی میں قتل ہونے والے کی زمین، اور جو بھاگ گیا (اس کی زمین)، اور جنگل والی زمین اور پانی جمع ہونے کی جگہیں (دلدلی زمین) بھی اپنے لیے خاص کر لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18372]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18373
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيِّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالرَّحْبَةِ فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ يَضْرِبَ بَعْضُكُمْ وُجُوهَ بَعْضٍ لَقَسَمْتُ السَّوَادَ بَيْنَكُمْ.
ثعلبہ عمانی کہتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس رحبہ نامی جگہ پر آئے تو فرمانے لگے: اگر تم آپس میں لڑائی نہ کرو تو میں تمہارے درمیان سواد کو تقسیم کر دوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18373]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18374
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي الْمِقْدَامِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ يَزِيدَ الْحِمَّانِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحْوَهُ.
ثعلبہ بن یزید حمانی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی (سابقہ روایت) کی مانند نقل فرماتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18374]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18375
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ. ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَيَقُولُونَ: إِنَّ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيَّ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ (روایت اگلی حدیث میں آ رہی ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18375]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18376
أَخْبَرَنَاهُ الثِّقَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَتْ بَجِيلَةُ رُبْعَ النَّاسِ فَقُسِمَ لَهُمْ رُبْعُ السَّوَادِ فَاسْتَغَلُّوهُ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعَ سِنِينَ، أَنَا شَكَكْتُ، ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمَعِي فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانٍ، امْرَأَةٌ مِنْهُمْ قَدْ سَمَّاهَا لَا يَحْضُرُنِي ذِكْرُ اسْمِهَا، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْلَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَتَرَكْتُكُمْ عَلَى مَا قُسِمَ لَكُمْ، وَلَكِنْ أَرَى أَنْ تَرُدُّوا عَلَى النَّاسِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَكَانَ فِي حَدِيثِهِ: وَعَاضَنِي مِنْ حَقِّي فِيهِ نَيِّفًا وَثَمَانِينَ، وَكَانَ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَتْ فُلَانَةُ: شَهِدَ أَبِي الْقَادِسِيَّةَ وَثَبَتَ سَهْمُهُ وَلَا أُسْلِمُهُ حَتَّى تُعْطِيَنِي كَذَا وَتُعْطِيَنِي كَذَا. فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ. وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، ⦗٢٢٨⦘ فَذَكَرَهَا وَذَكَرَ قِصَّةَ الْمَرْأَةِ وَذَكَرَ أَنَّهَا أُمُّ كُرْزٍ، وَذَكَرَ أَنَّهَا قَالَتْ: وَإِنِّي لَسْتُ أُسْلِمُ حَتَّى تَحْمِلَنِي عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ وَعَلَيْهَا قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ وَتَمْلَأُ كَفِّي ذَهَبًا، فَفَعَلَ ذَلِكَ، وَكَانَتِ الدَّنَانِيرُ نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ دِينَارًا.
قیس بن ابی حازم سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بجیلہ لوگوں کا چوتھائی حصہ تھا، ان کے لیے سواد کا چوتھائی حصہ تقسیم کر دیا گیا، انہوں نے تین یا چار سال تک غلہ حاصل کیا۔ (یہ شک مجھے ہے)، پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میرے ساتھ انہیں میں سے ایک عورت تھی، اس کا نام ذکر کرنا یاد نہیں رہا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر مجھے پوچھے جانے کا خوف نہ ہو تو تمہاری تقسیم پر ہی چھوڑ دوں، لیکن میرا خیال ہے کہ تم لوگوں پر واپس کر دو گے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے: ”اس نے مجھے میرے حق کا بدلہ دیا ہے جو اسی دینار سے بھی زیادہ ہے“ اور دوسری حدیث میں ہے کہ اس عورت نے کہا: ”میرا باپ جنگِ قادسیہ میں موجود تھا، اس کا حصہ مقرر تھا، میں اس کو نہ چھوڑوں گی، مجھے اتنا اتنا دیا جائے۔“ انہوں نے ادا کر دیا۔
(ب) ہشیم اسماعیل سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے عورت کا قصہ ذکر کیا جو ام کرز رضی اللہ عنہا تھی، کہنے لگی: ”اب مجھے اونٹنی پر سوار کریں جس پر سرخ رنگ کی چادر ہو اور میرے دونوں ہاتھوں کو سونے سے بھر دو۔“ پھر انہوں نے دیے اور دینار تقریباً اسی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18376]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں