السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3649. -- باب: السواد
-- باب: سواد (عراق کے زرخیز علاقے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 18377
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: لَمَّا وَفَدَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى عُمَرَ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَنَاسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِجَرِيرٍ: يَا جَرِيرُ وَاللهِ لَوْمَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسئُولٌ لَكُنْتُمْ عَلَى مَا قُسِمَ لَكُمْ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ. فَرَدَّهُ وَكَانَ جَعَلَ رُبْعَ السَّوَادِ لِبَجِيلَةَ فَأَخَذُوا الْخَرَاجَ ثَلَاثَ سِنِينَ، فَرَدَّهُ وَأَعْطَاهُ ثَمَانِينَ دِينَارًا.
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب جریر بن عبداللہ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما اور کچھ مسلمان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جریر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں تقسیم کرنے والا اور (اس کا) جواب دہ نہ ہوتا تو تم پہلی تقسیم پر ہی باقی رہتے، لیکن میں مسلمانوں پر واپس کرنا چاہتا ہوں اور لوٹا بھی دیا اور سواد کا چوتھائی حصہ بجیلہ کے پاس تھا۔ انہوں نے تین سال جزیہ وصول کیا، ان سے واپس لے کر اسی دینار عطا کر دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18377]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18378
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: كُنَّا رُبْعَ النَّاسِ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ، فَأَعْطَانَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رُبْعَ السَّوَادِ، فَأَخَذْنَاهُ ثَلَاثَ سِنِينَ، ثُمَّ وَفَدَ جَرِيرٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَوْلَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَكُنْتُمْ عَلَى مَا قُسِمَ لَكُمْ، فَأَرَى أَنْ تَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَفَعَلَ، وَأَجَازَهُ بِثَمَانِينَ دِينَارًا.
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ قادسیہ کے دن ہم لوگوں کا چوتھائی حصہ تھے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں سواد کا چوتھائی حصہ عطا کر دیا، ہم نے تین سال تک جزیہ وصول کیا۔ اس کے بعد جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا وفد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: اگر مجھے تقسیم کے بارے میں پوچھے جانے کا ڈر نہ ہوتا تو تمہیں اسی تقسیم پر باقی رکھتا، لیکن میرے خیال میں تم یہ مسلمانوں کو واپس کر دو۔ انہوں نے ایسا کر لیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اسی دینار انعام میں دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18378]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18379
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَعْطَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَرِيرًا وَقَوْمَهُ رُبْعَ السَّوَادِ، فَأَخَذَهُ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ جَرِيرًا وَفَدَ إِلَى عُمَرَ مَعَ عَمَّارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا جَرِيرُ لَوْلَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَكُنْتُمْ عَلَى مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ أَرَى أَنْ تَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِمْ وَأَعْطَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَمَانِينَ دِينَارًا.
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جریر رضی اللہ عنہ اور ان کی قوم کو سواد کا چوتھائی حصہ عطا کر دیا۔ انہوں نے دو یا تین سال جزیہ وصول کیا، پھر جریر اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا: ”اے جریر! اگر تقسیم کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کیا جاتا تو میں تمہیں اسی حالت پر برقرار رکھتا۔ لیکن اب تم یہ مسلمانوں کو واپس کر دو۔“ تو جریر رضی اللہ عنہ نے سواد کا چوتھائی حصہ واپس کر دیا، اس کے عوض سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اسّی دینار عطا کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18379]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18380
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِجَرِيرٍ: هَلْ لَكَ أَنْ تَأْتِيَ الْعِرَاقَ وَلَكَ الرُّبُعُ أَوِ الثُّلُثُ بَعْدَ الْخُمُسِ مِنْ كُلِّ أَرْضٍ وَشَيْءٍ. هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَالَّذِي قَبْلَهُ مَوْصُولٌ، وَلَيْسَ فِي الْآثَارِ الَّتِي رُوِّينَاهَا وَلَمْ نَرُدَّهَا فِي سَوَادِ الْعِرَاقِ أَصَحُّ مِنْهُ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ⦗٢٢٩⦘ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ دِلَالَةٌ إِذْ أَعْطَى جَرِيرًا الْبَجَلِيَّ عِوَضًا مِنْ سَهْمِهِ، وَالْمَرْأَةَ عِوَضًا مِنْ سَهْمِ أَبِيهَا أَنَّهُ اسْتَطَابَ أَنْفُسَ الَّذِينَ أَوْجَفُوا عَلَيْهِ، فَتَرَكُوا حُقُوقَهُمْ مِنْهُ، فَجَعَلَهُ وَقْفًا لِلْمُسْلِمِينَ، وَهَذَا حَلَالٌ لِلْإِمَامِ لَوِ افْتُتِحَ الْيَوْمَ أَرْضٌ عَنْوَةً فَأَحْصَى مَنِ افْتَتَحَهَا وَطَابُوا أَنْفُسًا عَنْ حُقُوقِهِمْ مِنْهَا أَنْ يَجْعَلَهَا الْإِمَامُ وَقْفًا، وَحُقُوقُهُمْ مِنْهَا الْأَرْبَعَةُ الْأَخْمَاسِ وَيُوَفَّى أَهْلُ الْخُمُسِ حَقَّهُمْ، إِلَّا أَنْ يَدَعَ الْبَالِغُونَ مِنْهُمْ حُقُوقَهُمْ فَيَكُونَ ذَلِكَ لَهُ، وَالْحُكْمُ فِي الْأَرْضِ كَالْحُكْمِ فِي الْمَالِ، وَقَدْ سَبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ وَقَسَمَ أَرْبَعَةَ الْأَخْمَاسِ بَيْنَ الْمُوجِفِينَ، ثُمَّ جَاءَتْهُ وُفُودُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَمُنَّ عَلَيْهِمْ بِأَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْهُمْ، فَخَيَّرَهُمْ بَيْنَ الْأَمْوَالِ وَالسَّبْيِ، فَقَالُوا: خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا فَنَخْتَارُ أَحْسَابَنَا، فَتَرَكَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقَّهُ وَحَقَّ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَسَمِعَ بِذَلِكَ الْمُهَاجِرُونَ فَتَرَكُوا لَهُ حُقُوقَهُمْ، وَسَمِعَ بِذَلِكَ الْأَنْصَارُ فَتَرَكُوا لَهُ حُقُوقَهُمْ، وَبَقِيَ قَوْمٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْآخِرِينَ وَالْفَتْحِيِّينَ فَأَمَرَ فَعَرَفَ عَلَى كُلِّ عَشَرَةٍ وَاحِدٌ ثُمَّ قَالَ:" ائْتُونِي بِطِيبِ أَنْفُسِ مَنْ بَقِيَ فَمَنْ كَرِهَ فَلَهُ عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْإِبِلِ" إِلَى وَقْتٍ ذَكَرَهُ فَجَاءُوا بِطِيبِ أَنْفُسِهِمْ إِلَّا الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةَ بْنَ بَدْرٍ فَإِنَّهُمَا أَبَيَا لِيُعَيِّرَا هَوَازِنَ، فَلَمْ يُكْرِهْهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، حَتَّى كَانَا هُمَا تَرَكَا بَعْدَ أَنْ خَدَعَ عُيَيْنَةُ عَنْ حَقِّهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقَّ مَنْ طَابَ نَفْسُهُ عَنْ حَقِّهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا أَوْلَى الْأُمُورِ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَنَا فِي السَّوَادِ وَفُتُوحِهِ إِنْ كَانَتْ عَنْوَةً، وَهَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ مِنْ أَمْرِ هَوَازِنَ قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جریر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ عراق جائیں گے؟ آپ کو چوتھائی یا تہائی حصہ خمس کے بعد ہر زمین اور ہر چیز سے دیا جائے گا۔“
یہ روایت منقطع ہے اور اس سے پہلے والی موصول ہے، اور سواد عراق کے بارے میں جو آثار ہم نے روایت کیے ہیں ان میں اس سے زیادہ صحیح کوئی نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ جب جریر بجلی کو اس کے حصے کا عوض دیا گیا جیسے عورت کو اس کے باپ کے حصے کا عوض دیا گیا، یہ ان لوگوں کی خوشی سے تھا جنہوں نے اس پر گھوڑے دوڑائے تھے۔ انہوں نے اپنے حقوق چھوڑ کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیے۔ امام کے لیے جائز ہے کہ اگر آج کوئی زمین لڑائی سے فتح ہو اور وہ فاتحین کو شمار کر لے اور وہ اپنی خوشی سے اپنے حقوق چھوڑ دیں تو امام اسے وقف کر دے، ان کا حق اس میں چار پانچویں حصے ہیں اور خمس والوں کو ان کا حق پورا دیا جائے، الا یہ کہ ان میں سے بالغ لوگ اپنے حقوق چھوڑ دیں تو یہ امام کے لیے ہو گا۔ اور زمین کا حکم بھی مال کی مانند ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کے لوگ قیدی بنائے اور ان کا مال فاتحین میں تقسیم کر دیا۔ پھر ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آیا تو انہوں نے احسان کرنے کی اپیل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قیدیوں اور مال میں سے کسی ایک چیز لینے کا اختیار دیا تو انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہمارے نسبوں اور مالوں میں اختیار دیا ہے، ہم اپنے نسبوں کو اختیار کرتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اور اہل بیت کا حق چھوڑ دیا۔ جب مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم نے سنا تو انہوں نے بھی اپنے حقوق چھوڑ دیے، بعد والے مہاجرین اور فتح (مکہ) کے موقع پر مسلمان ہونے والوں میں سے کچھ لوگ باقی رہ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دس پر ایک شخص کو نگران مقرر کیا، پھر فرمایا: ”جو باقی رہ گئے ہیں ان کی دلی رضامندی میرے پاس لاؤ، جو ناپسند کرے تو اس کے لیے میرے ذمہ اتنے اتنے اونٹ ہیں۔“ ایک وقت تک جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعین فرمایا، اقرع بن حابس اور عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام نے اپنے حقوق چھوڑ دیے۔ ان دونوں نے ہوازن کو عار دلانے کے لیے انکار کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس پر مجبور نہیں فرمایا، یہاں تک کہ بعد میں دونوں نے اپنا حق چھوڑ دیا، جبکہ عیینہ کو اس کے حق کے بارے میں دھوکا دیا گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (ہوازن) کے حوالے ان لوگوں کا حق کر دیا جنہوں نے اپنی خوشی سے اپنا حق چھوڑ دیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک سواد اور اس کی فتوحات کے بارے میں، اگر وہ لڑائی سے ہوئی تھیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں یہی سب سے مناسب بات ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18380]
یہ روایت منقطع ہے اور اس سے پہلے والی موصول ہے، اور سواد عراق کے بارے میں جو آثار ہم نے روایت کیے ہیں ان میں اس سے زیادہ صحیح کوئی نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ جب جریر بجلی کو اس کے حصے کا عوض دیا گیا جیسے عورت کو اس کے باپ کے حصے کا عوض دیا گیا، یہ ان لوگوں کی خوشی سے تھا جنہوں نے اس پر گھوڑے دوڑائے تھے۔ انہوں نے اپنے حقوق چھوڑ کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیے۔ امام کے لیے جائز ہے کہ اگر آج کوئی زمین لڑائی سے فتح ہو اور وہ فاتحین کو شمار کر لے اور وہ اپنی خوشی سے اپنے حقوق چھوڑ دیں تو امام اسے وقف کر دے، ان کا حق اس میں چار پانچویں حصے ہیں اور خمس والوں کو ان کا حق پورا دیا جائے، الا یہ کہ ان میں سے بالغ لوگ اپنے حقوق چھوڑ دیں تو یہ امام کے لیے ہو گا۔ اور زمین کا حکم بھی مال کی مانند ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کے لوگ قیدی بنائے اور ان کا مال فاتحین میں تقسیم کر دیا۔ پھر ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آیا تو انہوں نے احسان کرنے کی اپیل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قیدیوں اور مال میں سے کسی ایک چیز لینے کا اختیار دیا تو انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہمارے نسبوں اور مالوں میں اختیار دیا ہے، ہم اپنے نسبوں کو اختیار کرتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اور اہل بیت کا حق چھوڑ دیا۔ جب مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم نے سنا تو انہوں نے بھی اپنے حقوق چھوڑ دیے، بعد والے مہاجرین اور فتح (مکہ) کے موقع پر مسلمان ہونے والوں میں سے کچھ لوگ باقی رہ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دس پر ایک شخص کو نگران مقرر کیا، پھر فرمایا: ”جو باقی رہ گئے ہیں ان کی دلی رضامندی میرے پاس لاؤ، جو ناپسند کرے تو اس کے لیے میرے ذمہ اتنے اتنے اونٹ ہیں۔“ ایک وقت تک جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعین فرمایا، اقرع بن حابس اور عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام نے اپنے حقوق چھوڑ دیے۔ ان دونوں نے ہوازن کو عار دلانے کے لیے انکار کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس پر مجبور نہیں فرمایا، یہاں تک کہ بعد میں دونوں نے اپنا حق چھوڑ دیا، جبکہ عیینہ کو اس کے حق کے بارے میں دھوکا دیا گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (ہوازن) کے حوالے ان لوگوں کا حق کر دیا جنہوں نے اپنی خوشی سے اپنا حق چھوڑ دیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک سواد اور اس کی فتوحات کے بارے میں، اگر وہ لڑائی سے ہوئی تھیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں یہی سب سے مناسب بات ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18380]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18381
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامَغَانِيُّ بِبَيْهَقَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ الْقَطِيعِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُثِّلَتْ لِيَ الْحِيرَةُ كَأَنْيَابِ الْكِلَابِ، وَإِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَهَا". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَبْ لِيَ ابْنَةَ بَقِيلَةَ. قَالَ:" هِيَ لَكَ". فَأَعْطَوْهُ إِيَّاهَا فَجَاءَ أَبُوهَا فَقَالَ: أَتَبِيعُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: بِكَمْ؟ احْكُمْ مَا شِئْتَ. قَالَ: أَلْفُ دِرْهَمٍ. قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهَا. قَالُوا لَهُ: لَوْ قُلْتَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا لَأَخَذَهَا. قَالَ: وَهَلْ عَدَدٌ أَكْثَرُ مِنْ أَلْفٍ؟. تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ سُفْيَانَ هَكَذَا، وَقَالَ غَيْرُهُ عَنْهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ⦗٢٣٠⦘ وَالْمَشْهُورُ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسٍ، وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ، وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ فِي آخِرِ غَزْوَةِ تَبُوكَ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیرہ شہر میرے سامنے کتوں کی کچلیوں کی مانند ظاہر کیا گیا اور تم اس کو فتح کرو گے۔“ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: اے اللہ کے نبی! بقیلہ کی بیٹی مجھے ہبہ کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دے دی۔ پھر اس کا باپ آیا، کہنے لگا: کیا فروخت کرو گے؟ اس نے پوچھا: کتنے کی؟ اس نے کہا: جو چاہو فیصلہ کر لو۔ اس نے کہا: ہزار درہم۔ اس نے کہا: میں نے خرید لی ہے۔ انہوں نے کہا: اگر وہ تیس ہزار بھی مانگتا تب بھی وہ خرید لیتے۔ اس نے کہا: کیا ہزار سے بڑا عدد بھی کوئی ہے؟
اس روایت کو سفیان سے اس طرح بیان کرنے میں ابن ابی عمر منفرد ہیں، دوسروں نے اسے سفیان سے علی بن زید بن جدعان کے واسطے سے بیان کیا ہے۔
(ب) مشہور یہ ہے کہ یہ حدیث خریم بن اوس سے ہے، یہ وہ شخص ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عورت دی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18381]
اس روایت کو سفیان سے اس طرح بیان کرنے میں ابن ابی عمر منفرد ہیں، دوسروں نے اسے سفیان سے علی بن زید بن جدعان کے واسطے سے بیان کیا ہے۔
(ب) مشہور یہ ہے کہ یہ حدیث خریم بن اوس سے ہے، یہ وہ شخص ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عورت دی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18381]
تخریج الحدیث: «موضوع»
الحكم على الحديث: موضوع