السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3724. -- باب: كم الجزية
-- باب: جزیہ کی مقدار کتنی ہے۔
حدیث نمبر: 18664
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا، أَوْ عِدْلَهُ ثَوْبَ مَعَافِرَ.
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن روانہ کیا اور فرمایا: ”گائے والوں سے ہر تیس گایوں پر ایک سال کا بچہ وصول کیا جائے اور چالیس گایوں پر دو سال کا بچہ وصول کیا جائے اور ہر بالغ کے ذمہ ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18664]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18665
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ، يَعْنِي مُحْتَلِمًا، دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مِنَ الْمَعَافِرِيِّ ثِيَابٌ تَكُونُ بِالْيَمَنِ..
ابو وائل سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی جانب روانہ کیا تو فرمایا: ”گائے والوں سے ہر تیس پر ایک سالہ نر یا مادہ وصول کرنا اور ہر چالیس گائے پر دو دانت والا اور ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر یمن کے بنے ہوئے معافری کپڑے وصول کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18665]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18666
قَالَ: وَحَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ بَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِنْكَارًا شَدِيدًا. قَالَ الشَّيْخُ: إِنَّمَا الْمُنْكَرُ رِوَايَةُ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، فَأَمَّا رِوَايَةُ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، فَإِنَّهَا مَحْفُوظَةٌ قَدْ رَوَاهَا عَنِ الْأَعْمَشِ جَمَاعَةٌ، مِنْهُمْ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَمَعْمَرٌ، وَجَرِيرٌ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ مُعَاذٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، أَوْ مَا فِي مَعْنَاهُ، ⦗٣٢٥⦘ وَأَمَّا حَدِيثُ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فَالصَّوَابُ كَمَا.
مسروق سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل نقل فرماتے ہیں۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بعض نسخوں میں فرمایا: یہ حدیث منکر ہے، مجھے امام احمد رحمہ اللہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ اس حدیث کا سختی سے انکار کرتے تھے۔
شیخ (امام بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: منکر تو صرف ابومعاویہ کی اعمش سے، ان کی ابراہیم سے، ان کی مسروق سے اور ان کی معاذ سے روایت ہے، رہی اعمش کی ابووائل سے اور ان کی مسروق سے روایت تو وہ محفوظ ہے، اسے اعمش سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے، جن میں سفیان ثوری، شعبہ، معمر، جریر، ابوعوانہ، یحییٰ بن سعید اور حفص بن غیاث شامل ہیں۔ ان میں سے بعض نے ”معاذ سے“ کہا اور بعض نے کہا: ”جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو یمن بھیجا“ یا اس کے ہم معنی الفاظ۔ اور اعمش کی ابراہیم سے روایت کے بارے میں درست بات وہی ہے جو ذکر ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18666]
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بعض نسخوں میں فرمایا: یہ حدیث منکر ہے، مجھے امام احمد رحمہ اللہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ اس حدیث کا سختی سے انکار کرتے تھے۔
شیخ (امام بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: منکر تو صرف ابومعاویہ کی اعمش سے، ان کی ابراہیم سے، ان کی مسروق سے اور ان کی معاذ سے روایت ہے، رہی اعمش کی ابووائل سے اور ان کی مسروق سے روایت تو وہ محفوظ ہے، اسے اعمش سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے، جن میں سفیان ثوری، شعبہ، معمر، جریر، ابوعوانہ، یحییٰ بن سعید اور حفص بن غیاث شامل ہیں۔ ان میں سے بعض نے ”معاذ سے“ کہا اور بعض نے کہا: ”جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو یمن بھیجا“ یا اس کے ہم معنی الفاظ۔ اور اعمش کی ابراہیم سے روایت کے بارے میں درست بات وہی ہے جو ذکر ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18666]
حدیث نمبر: 18667
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: قَالَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً ثَنِيَّةً، وَمِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ. هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ حَدِيثُ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَحَدِيثُهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ مُنْقَطِعٌ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ مَسْرُوقٍ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا اور حکم فرمایا: ”چالیس گائے پر ایک ثنیہ اور ہر تیس گائے پر ایک تبیعہ، نر یا مادہ، اور ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا وصول کرنا۔“
یہی محفوظ ہے، یعنی اعمش کی ابووائل شقیق بن سلمہ سے اور ان کی مسروق سے روایت، اور اعمش کی ابراہیم سے روایت منقطع ہے، اس میں مسروق کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18667]
یہی محفوظ ہے، یعنی اعمش کی ابووائل شقیق بن سلمہ سے اور ان کی مسروق سے روایت، اور اعمش کی ابراہیم سے روایت منقطع ہے، اس میں مسروق کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18667]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18668
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ أَنَّ" عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْكُمْ دِينَارًا كُلَّ سَنَةٍ أَوْ قِيمَتَهُ مِنَ الْمَعَافِرِ"، يَعْنِي أَهْلَ الذِّمَّةِ مِنْهُمْ.
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن والوں کو خط لکھا کہ: ”تمہارے ہر بالغ پر سال میں ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا ہے یعنی ذمی لوگوں پر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18668]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18669
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، وَهِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، بِإِسْنَادٍ لَا أَحْفَظُهُ غَيْرَ أَنَّهُ حَسَنٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ دِينَارًا كُلَّ سَنَةٍ، فَقُلْتُ لِمُطَرِّفِ بْنِ مَازِنٍ فَإِنَّهُ يُقَالُ: وَعَلَى النِّسَاءِ أَيْضًا، فَقَالَ: لَيْسَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ مِنَ النِّسَاءِ ثَابِتًا عِنْدَنَا.
ہشام بن یوسف اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے ذمی لوگوں پر سال میں ایک دینار مقرر کیا۔ کہتے ہیں: میں نے مطرف بن مازن سے کہا: کیا عورتوں پر بھی؟ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے وصول کیا ہو، ہمارے نزدیک یہ ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18669]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18670
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْيَمَنِ" عَلَى كُلِّ حَالِمٍ أَوْ حَالِمَةٍ دِينَارًا أَوْ قِيمَتَهُ، وَلَا يُفْتَنُ يَهُودِيٌّ عَنْ يَهُودِيَّتِهِ". قَالَ يَحْيَى: وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ عَلَى النِّسَاءِ جِزْيَةً إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ" حَالِمَةٍ" وَلَا فِي رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُعَاذٍ، إِلَّا شَيْئًا رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، وَمَعْمَرٌ إِذَا رَوَى عَنْ غَيْرِ الزُّهْرِيِّ يَغْلَطُ كَثِيرًا وَاللهُ أَعْلَمُ، ⦗٣٢٦⦘ وَقَدْ حَمَلَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ إِنْ كَانَ مَحْفُوظًا عَلَى أَخْذِهَا مِنْهَا إِذَا طَابَتْ بِهَا نَفْسًا. وَرَوَاهُ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنِ الْحَكَمِ مَوْصُولًا وَأَبُو شَيْبَةَ ضَعِيفٌ.
حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن میں خط لکھا کہ: ”ہر مرد و عورت پر ایک دینار یا اس کی قیمت ہے اور کسی یہودی کو یہودیت کی وجہ سے آزمائش میں نہ ڈالا جائے۔“
یہ روایت منقطع ہے۔ اسے ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان نے حکم سے موصولاً روایت کیا ہے اور ابوشیبہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18670]
یہ روایت منقطع ہے۔ اسے ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان نے حکم سے موصولاً روایت کیا ہے اور ابوشیبہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18670]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18671
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، أنبأ حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ" مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَهُ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْهِمْ، وَمَنْ أَقَامَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ أَوْ نَصْرَانِيَّةٍ فَعَلَى كُلِّ حَالِمٍ دِينَارٌ أَوْ عِدْلُهُ مِنَ الْمَعَافِرِ، ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى، حُرًّا أَوْ مَمْلُوكًا، وَفِي كُلِّ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مِنَ الْإِبِلِ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ أَوْ سُقِيَ فَيْحًا الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالْغَرْبِ نِصْفُ الْعُشْرِ". هَذَا لَا يَثْبُتُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرف خط تحریر کیا کہ ”جس نے اسلام قبول کر لیا تو اس کے وہی حقوق ہیں جو مسلمانوں کے ہیں اور اس پر وہی ذمہ داری عائد ہو گی جو دوسرے مسلمانوں پر ہے، اور جو یہودی یا عیسائی ہو ان کے بالغ پر ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا ہے، مذکر ہو یا مؤنث، آزاد ہو یا غلام، اور ہر تیس گائے میں ایک «تَبِیعَة» (نر یا مادہ) اور ہر چالیس گائے پر ایک «مُسِنَّة» اور ہر چالیس اونٹوں پر ایک «بِنْتَ لَبُونٍ» (دو سال مکمل والی، تیسرے سال میں داخل ہو) ہے، اور وہ کھیتی جو بارش سے سیراب ہو اس میں دسواں حصہ ہے اور جس کھیتی کو ٹیوب ویل کے ذریعے سیراب کیا جائے اس کا بیسواں حصہ ہے“۔
یہ روایت اس سند کے علاوہ کسی اور سند سے ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18671]
یہ روایت اس سند کے علاوہ کسی اور سند سے ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18671]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18672
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: فَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ خَالِدٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، وَعَدَدًا مِنْ عُلَمَاءِ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَكُلُّهُمْ حَكَى لِي عَنْ عَدَدٍ مَضَوْا قَبْلَهُمْ، يَحْكُونَ عَنْ عَدَدٍ مَضَوْا قَبْلَهُمْ، كُلُّهُمْ ثِقَةٌ: أَنَّ صُلْحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ كَانَ لِأَهْلِ ذِمَّةِ الْيَمَنِ عَلَى دِينَارٍ كُلَّ سَنَةٍ، وَلَا يُثْبِتُونَ أَنَّ النِّسَاءَ كُنَّ فِيمَنْ يُؤْخَذُ مِنْهُ الْجِزْيَةُ، وَقَالَ عَامَّتُهُمْ: وَلَمْ تُؤْخَذْ مِنْ زُرُوعِهِمْ وَقَدْ كَانَتْ لَهُمْ زُرُوعٌ، وَلَا مِنْ مَوَاشِيهِمْ شَيْئًا عَلِمْنَاهُ، وَقَالَ لِي بَعْضُهُمْ: قَدْ جَاءَنَا بَعْضُ الْوُلَاةِ فَخَمَسَ زُرُوعَهُمْ أَوْ أَرَادَهَا فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَكُلُّ مَنْ وَصَفْتُ أَخْبَرَنِي أَنَّ عَامَّةَ ذِمَّةِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ حِمْيَرَ. قَالَ: وَسَأَلْتُ عَدَدًا كَثِيرًا مِنْ ذِمَّةِ أَهْلِ الْيَمَنِ مُتَفَرِّقِينَ فِي بُلْدَانِ الْيَمَنِ فَكُلُّهُمْ أَثْبَتَ لِي لَا يَخْتَلِفُ قَوْلُهُمْ أَنَّ مُعَاذًا أَخَذَ مِنْهُمْ دِينَارًا عَنْ كُلِّ بَالِغٍ مِنْهُمْ، وَسَمَّوَا الْبَالِغَ حَالِمًا قَالُوا: وَكَانَ فِي كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ مُعَاذٍ" أَنَّ عَلَى كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن خالد، عبداللہ بن عمرو بن مسلم اور اہل یمن کے کئی علماء سے پوچھا، ان سب نے اپنے سے پہلے گزرے ہوئے کئی لوگوں سے اور انہوں نے اپنے سے پہلے گزرے ہوئے کئی لوگوں سے نقل کیا، جو سب ثقہ تھے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح یمن کے ذمی لوگوں کے ساتھ سال میں ایک دینار پر تھی اور وہ یہ ثابت نہیں کرتے کہ عورتیں ان لوگوں میں شامل تھیں جن سے جزیہ لیا جاتا تھا۔ ان میں سے اکثر نے کہا: ان کی کھیتیوں سے کچھ نہیں لیا گیا حالانکہ ان کی کھیتیاں تھیں، اور نہ ہی ہمارے علم کے مطابق ان کے مویشیوں سے کچھ لیا گیا۔ ان میں سے بعض نے مجھ سے کہا: ہمارے پاس ایک حاکم آیا اور اس نے ان کی کھیتیوں سے پانچواں حصہ لیا یا لینے کا ارادہ کیا تو اس پر انکار کیا گیا۔ جن جن کا میں نے ذکر کیا، سب نے مجھے بتایا کہ اہل یمن کے اکثر ذمی حمیر قبیلہ سے تھے۔ فرماتے ہیں: اور میں نے یمن کے مختلف شہروں میں بکھرے ہوئے اہل یمن کے بہت سے ذمی افراد سے پوچھا، سب نے بلا اختلاف مجھے یہی بتایا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ان کے ہر بالغ سے ایک دینار وصول کیا اور وہ بالغ کو «حَالِم» کہتے تھے۔ انہوں نے کہا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو خط سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اس میں درج تھا کہ ”ہر بالغ پر ایک دینار ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18672]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18673
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ الْجِزْيَةَ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ دِينَارًا دِينَارًا.
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن والوں کے ہر بالغ پر ایک ایک دینار جزیہ مقرر فرمایا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18673]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف