🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3871. -- باب: ما جاء في الضب
-- باب: سانڈے (ضب) کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19429
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدَنَا خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرٍّ سَمْرَاءَ مُلَيَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ". فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ، فَسَأَلَهُ فِي أِيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا؟ قَالَ: كَانَ فِي عُكَّةِ ضَبٍّ. فَقَالَ:" ارْفَعْهُ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پسند کرتا ہوں کہ میرے پاس گندم کی سفید روٹی گھی اور دودھ سے تر موجود ہو۔“ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ پیش کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ گھی کہاں رکھا گیا تھا؟“ تو اس نے کہا: گوہ کے بنے ہوئے چمڑے کی تھیلی میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے جاؤ۔“
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اسے سنن میں نقل کیا اور فرمایا: یہ حدیث منکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19429]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19430
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَجَاءَ ابْنٌ لَهُ أُرَاهُ الْقَاسِمَ، قَالَ:" أَصَبْتَ الْيَوْمَ مِنْ حَاجَتِكَ شَيْئًا؟" فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: مَا حَاجَتُهُ؟ قَالَ:" مَا رَأَيْتُ غُلَامًا آكَلَ لِضَبٍّ مِنْهُ". فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَوَلَيْسَ بِحَرَامٍ؟ فَسَأَلَ قَالَ: وَمَا حَرَّمَهُ؟ قَالَ: أَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُهُ؟ قَالَ: أَوَلَيْسَ الرَّجُلُ يَكْرَهُ الشَّيْءَ وَلَيْسَ بِحَرَامٍ؟ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّ مُحَرِّمَ الْحَلَالِ كَمُسْتَحِلِّ الْحَرَامِ.
ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود رحمہ اللہ کے پاس تھا کہ ان کا ایک بیٹا آیا، میرا خیال ہے کہ وہ قاسم تھے۔ انہوں نے (بیٹے سے) پوچھا: ”کیا آج تم نے اپنی ضرورت کی کوئی چیز پا لی؟“ تو لوگوں میں سے کسی نے پوچھا: ان کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے کہا: ”میں نے اس سے زیادہ گوہ کھانے والا کوئی لڑکا نہیں دیکھا۔“ تو بعض لوگوں نے کہا: کیا یہ حرام نہیں؟ انہوں نے پوچھا: کس چیز نے اس کو حرام کیا؟ کہنے لگے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ناپسند نہ کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: کیا ایسا نہیں ہوتا کہ انسان کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے لیکن وہ حرام نہیں ہوتی؟ اور کہا: سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حلال کو حرام کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے حرام کو حلال کرنے والا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19430]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں