السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3871. -- باب: ما جاء في الضب
-- باب: سانڈے (ضب) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19419
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ قَالَ:" إِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الْأُولَى الَّتِي مُسِخَتْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ. فَهَذَا مِثْلُ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي أَنَّهُ امْتَنَعَ مِنْ أَكْلِهِ وَزَادَ عَلَيْهِمَا فِي حِكَايَةِ عِلَّةِ الِامْتِنَاعِ عِلَّةً أُخْرَى لِلِامْتِنَاعِ سِوَى التَّقَذُّرِ، وَزَادَ عَلَيْهِ مَا يَدُلُّ عَلَى الْإِبَاحَةِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ”مجھے معلوم نہیں شاید کہ یہ پہلی امتوں میں سے ہے جو مسخ کی گئی تھی۔“
(ب) یہ حدیث سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی احادیث کی طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے پرہیز کیا، اور اس میں ناپسندیدگی کے علاوہ پرہیز کی ایک اور وجہ بیان ہوئی ہے، اور اس میں ایسی بات بھی زائد ہے جو اس کے مباح ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19419]
(ب) یہ حدیث سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی احادیث کی طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے پرہیز کیا، اور اس میں ناپسندیدگی کے علاوہ پرہیز کی ایک اور وجہ بیان ہوئی ہے، اور اس میں ایسی بات بھی زائد ہے جو اس کے مباح ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19419]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٤٩»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19420
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، ثنا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الضَّبِّ فَقَالَ: لَا تَطْعَمُوهُ. وَقَذِرَهُ. وَقَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَرِّمْهُ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، فَإِنَّمَا طَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ مِنْهُ، وَلَوْ كَانَ عِنْدِي طَعِمْتُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ شَبِيبٍ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ الْيَشْكُرِيُّ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعَلَى هَذَا حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ.
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے گوہ کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے: ”تم نہ کھاؤ“ اور انہوں نے اسے ناپسند کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حرام قرار نہ دیا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے کسی کو فائدہ بھی دیتے ہیں، کیونکہ عام لوگوں کا کھانا یہی تو ہے، اگر میرے پاس ہوتی تو کھا لیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19420]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٥٠»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19421
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّا بِأَرْضٍ ⦗٥٤٥⦘ مَضَبَّةٍ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلَغَنِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابًّا، وَلَا أَدْرِي أِيُّ الدَّوَابِّ هِيَ". فَلَمْ يَأْمُرْهُ وَلَمْ يَنْهَهُ.
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم گوہ کے علاقے میں رہتے ہیں، آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتایا گیا کہ بنی اسرائیل کی ایک امت کو مسخ کر کے چوپائے بنا دیا گیا تھا، مجھے معلوم نہیں یہ کون سا جانور ہے۔“ نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19421]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19422
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، بِمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ هَذِهِ الرِّعَاءِ، وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ، إِنَّمَا عَافَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا: اس کے ذریعہ اللہ کسی کو نفع دے گا، کیونکہ یہ عام لوگوں کا کھانا ہے۔ اگر میرے پاس موجود ہوتی تو میں کھا لیتا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ناپسند کرتے ہوئے چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19422]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٩٥١»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19423
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو عَقِيلٍ بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي فِي حَائِطٍ مَضَبَّةٍ وَإِنَّهُ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي. فَسَكَتَ عَنْهُ، فَقُلْنَا: عَاوِدْهُ، فَعَاوَدَهُ فَسَكَتَ عَنْهُ، ثُمَّ قُلْنَا: عَاوِدْهُ، فَعَاوَدَهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ:" يَا أَعْرَابِيُّ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ غَضِبَ عَلَى سِبْطَيْنِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَمَسَخَهُمْ دَوَابًّا يَدِبُّونَ فِي الْأَرْضِ، فَلَا أَدْرِي لَعَلَّهَا بَعْضُهَا، وَلَسْتُ بِنَاهِيكَ عَنْهَا وَلَا آمِرِكَ بِهَا". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي عَقِيلٍ، وَقَالَ: فَلَسْتُ آكُلُهَا وَلَا أَنْهَى عَنْهَا.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں ایسے باغ میں رہتا ہوں جہاں گوہ پائی جاتی ہے اور یہ میرے گھر والوں کا کھانا بھی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اس نے دوسری اور تیسری مرتبہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے دیہاتی! اللہ نے بنی اسرائیل کے دو قبیلوں پر غضب نازل کیا تو انہیں مسخ کر کے زمین پر رینگنے والے جانور بنا دیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ ان میں سے ہے، نہ تو میں تمہیں اس کے کھانے کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی منع کرتا ہوں۔“
(ب) ابوعقیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ تو میں کھاتا ہوں اور نہ تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19423]
(ب) ابوعقیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ تو میں کھاتا ہوں اور نہ تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19423]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19424
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَنَا جُوعٌ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا كَثِيرَ الضِّبَابِ، فَبَيْنَمَا الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا إِذْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ مُسِخَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَأَخَافُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ"، فَأَكْفَيْنَا الْقُدُورَ. كَذَا رَوَاهُ الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدٍ.
سیدنا عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سفر میں بھوک لگ گئی تو ہم نے ایسی جگہ پڑاؤ کیا جہاں گوہ عام پائی جاتی تھی تو ہنڈیاں گوہ کے گوشت کے ساتھ جوش مار رہی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کی امت کی شکلیں تبدیل کی گئیں اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ اس میں سے نہ ہو“ تو ہم نے ہنڈیاں انڈیل دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19424]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19425
وَرَوَاهُ الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ عَنْ زَيْدٍ، كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّبِيعِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقَاضِي الْبُسْتِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْبَكْرِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ ⦗٥٤٦⦘ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِضَبٍّ فَقَالَ:" أُمَّةٌ مِمَّنْ مُسِخَ وَاللهُ أَعْلَمُ". وَفِي رِوَايَةِ عُبَيْدِ اللهِ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَقَالَ:" إِنَّ أُمَّةً مُسِخَتْ وَاللهُ أَعْلَمُ. كَذَا قَالَ الْحَكَمُ: ورَوَاهُ حُصَيْنٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، وَقِيلَ: ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ، وَيَزِيدُ أَبُوهُ، وَوَدِيعَةُ أُمُّهُ، وَهُوَ فِي مَعْنَى أَحَادِيثِ مَنْ قَبْلَهُ وَلَيْسَ فِيهِ تَحْرِيمٌ وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدِيثُ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ أَصَحُّ، وَفِي نَفْسِ الْحَدِيثِ نَظَرٌ.
ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مسخ شدہ امتوں میں سے ہے، اللہ بہتر جانتا ہے۔“
(ب) عبیداللہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوہ لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مسخ شدہ امت میں سے ہے، اللہ بہتر جانتا ہے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ثابت بن ودیعہ کی حدیث زیادہ صحیح ہے، اور خود اس حدیث میں نظر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19425]
(ب) عبیداللہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوہ لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مسخ شدہ امت میں سے ہے، اللہ بہتر جانتا ہے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ثابت بن ودیعہ کی حدیث زیادہ صحیح ہے، اور خود اس حدیث میں نظر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19425]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19426
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَبٌّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تُطْعِمُهُ الْمَسَاكِينَ؟ فَقَالَ:" لَا تُطْعِمُوهُمْ مِمَّا لَا تَأْكُلُونَ". تَفَرَّدَ بِهِ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ مَوْصُولًا، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ مُرْسَلًا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوہ ہدیہ میں دی گئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کھائی۔ میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم مسکینوں کو کھلا دیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خود نہیں کھاتے ان کو بھی نہ کھلاؤ۔“
اس کو موصول سند کے ساتھ صرف حماد بن ابی سلیمان نے روایت کیا ہے، اور ان سے یہ بھی منقول ہے کہ ابراہیم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل روایت کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19426]
اس کو موصول سند کے ساتھ صرف حماد بن ابی سلیمان نے روایت کیا ہے، اور ان سے یہ بھی منقول ہے کہ ابراہیم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل روایت کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19426]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 19427
أَخْبَرَنَاهُ ابْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُهْدِيَ لَنَا ضَبٌّ فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تُطْعِمُهُ السُّؤَّالَ؟ فَقَالَ: إِنَّا لَا نُطْعِمُهُمْ مِمَّا لَا نَأْكُلُ". وَهُوَ إِنْ ثَبَتَ فِي مَعْنَى مَا تَقَدَّمَ مِنَ امْتِنَاعِهِ مِنْ أَكْلِهِ، ثُمَّ فِيهِ أَنَّهُ اسْتَحَبَّ أَنْ لَا يُطْعِمَ الْمَسَاكِينَ مِمَّا لَا يَأْكُلُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
ابراہیم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوہ تحفہ میں دی گئی، جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کھائی۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم مانگنے والے کو دے دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خود ہم نہیں کھاتے ان کو بھی نہ کھلائیں گے۔“
نوٹ: انسان جو چیز خود کھانا پسند نہیں کرتا وہ مساکین کو بھی نہ کھلائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19427]
نوٹ: انسان جو چیز خود کھانا پسند نہیں کرتا وہ مساکین کو بھی نہ کھلائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19427]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19428
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ. وَهَذَا يَنْفَرِدُ بِهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ وَلَيْسَ بِحُجَّةٍ، وَمَا مَضَى فِي إِبَاحَتِهِ أَصَحُّ مِنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گوہ کھانے سے منع فرمایا۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں اسماعیل بن عیاش منفرد ہیں اور وہ حجت نہیں ہیں، اور اس کے مباح ہونے کے بارے میں جو روایات گزر چکی ہیں وہ اس سے زیادہ صحیح ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19428]
اس روایت کو بیان کرنے میں اسماعیل بن عیاش منفرد ہیں اور وہ حجت نہیں ہیں، اور اس کے مباح ہونے کے بارے میں جو روایات گزر چکی ہیں وہ اس سے زیادہ صحیح ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19428]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف