السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3976. -- باب: الخلاف في النذر الذي يخرجه مخرج اليمين
-- باب: اس نذر کے بارے میں اختلاف کا بیان جسے قسم کے طور پر ادا کیا جائے۔
حدیث نمبر: Q20050
قَدْ مَضَى قَوْلُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَمَنْ قَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي أَنَّهُ يَمِينٌ، يُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ قَالَ غَيْرُهُ: يَتَصَدَّقُ بِجَمِيعِ مَا يَمْلِكُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَيَحْبِسُ قَدْرَ مَا يَقُوتُهُ، فَإِذَا أَيْسَرَ، تَصَدَّقَ بِالَّذِي حَبَسَ"، وَذَهَبَ غَيْرُهُ إِلَى أَنْ يَتَصَدَّقَ بِثُلُثِ مَالِهِ، وَغَيْرُهُ إِلَى أَنْ يَتَصَدَّقَ بِالزَّكَاةِ". قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا الْمَذْهَبُ الْأَوَّلُ، فَيُحْكَى عَنْ بَعْضِ الْعِرَاقيِّينَ، وَأَمَّا الثَّانِي فَهُوَ مَذْهَبُ مَالِكٍ وَاحْتَجَّ بَعْضُ مَنْ ذَهَبَ مَذْهَبَهُ بِمَا:.
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کا قول اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ان حضرات کا قول گزر چکا ہے جنہوں نے ان جیسی بات کہی ہے کہ یہ قسم ہے، اور اس کا کفارہ وہی ہو گا جو قسم کا کفارہ ہوتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ان کے علاوہ کسی اور نے کہا ہے: وہ اپنی تمام ملکیت صدقہ کر دے گا، البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اتنی مقدار روک لے جو اس کی گزر بسر کے لیے کافی ہو، پھر جب وہ خوشحال ہو جائے تو جو روکا تھا اسے بھی صدقہ کر دے۔
اور ایک اور (عالم) اس طرف گئے ہیں کہ وہ اپنے مال کا تہائی حصہ صدقہ کرے گا، اور ایک اور اس طرف گئے ہیں کہ وہ زکاۃ (کی مقدار) صدقہ کرے گا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جہاں تک پہلے مذہب کا تعلق ہے تو وہ بعض عراقی علماء سے نقل کیا جاتا ہے، اور جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے تو وہ امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب ہے، اور ان کے مذہب کو اختیار کرنے والے بعض لوگوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جو... [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: Q20050]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ان کے علاوہ کسی اور نے کہا ہے: وہ اپنی تمام ملکیت صدقہ کر دے گا، البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اتنی مقدار روک لے جو اس کی گزر بسر کے لیے کافی ہو، پھر جب وہ خوشحال ہو جائے تو جو روکا تھا اسے بھی صدقہ کر دے۔
اور ایک اور (عالم) اس طرف گئے ہیں کہ وہ اپنے مال کا تہائی حصہ صدقہ کرے گا، اور ایک اور اس طرف گئے ہیں کہ وہ زکاۃ (کی مقدار) صدقہ کرے گا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جہاں تک پہلے مذہب کا تعلق ہے تو وہ بعض عراقی علماء سے نقل کیا جاتا ہے، اور جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے تو وہ امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب ہے، اور ان کے مذہب کو اختیار کرنے والے بعض لوگوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جو... [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: Q20050]
حدیث نمبر: 20050
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي بَعْضُ بَنِي السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ حِينَ ارْتَبَطَ فَتَابَ اللهُ عَلَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، وَأُجَاوِرَكَ، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ"، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ مِنْ مَالِكَ". وَرَوَاهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَفْصٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ. وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ جَدَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ حِينَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ، فَذَكَرَهُ. ⦗١١٦⦘ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ أَبِيهِ وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ أَوْ غَيْرِهِ نَحْوَهُ.
بنو سائب بن ابی لبابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو ستون سے باندھا، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میں اپنا وہ گھر چھوڑنا چاہتا ہوں جس میں گناہ سرزد ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں رہنا چاہتا ہوں اور اپنا سارا مال اللہ کے راستے میں خرچ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مال کا ثلث حصہ صدقہ کرو یہ کفایت کر جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20050]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20051
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَبُو لُبَابَةَ، أَوْ مَنْ شَاءَ اللهُ: إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِيَ الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مُلْكِي كُلِّهِ صَدَقَةً"، قَالَ:" يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ"..
ابن کعب بن مالک رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے یا ابولبابہ رضی اللہ عنہ یا جسے اللہ نے چاہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے: میری توبہ میں سے یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا وہ گھر چھوڑ دوں جس میں مجھ سے گناہ سرزد ہوا، اور اپنا سارا مال صدقہ کر کے اس سے الگ ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف مال کا تیسرا حصہ صدقہ کرو، یہ تجھے کفایت کر جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20051]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20052
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" كَانَ أَبُو لُبَابَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ:" وَالْقِصَّةُ لِأَبِي لُبَابَةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ بِهَذَا اللَّفْظِ فِي قِصَّةِ أَبِي لُبَابَةَ فَأَمَّا مَا قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ فَغَيْرُ مُقَدَّرٍ بِالثُّلُثِ".
ابن کعب بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ابولبابہ رضی اللہ عنہ تھے، پھر اسی مفہوم کی بات ذکر کی۔ ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ قصہ ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ ابولبابہ رضی اللہ عنہ کے قصے میں ہیں، رہی وہ بات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمائی تو وہ تہائی کے ساتھ مقرر نہیں تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20052]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ ابولبابہ رضی اللہ عنہ کے قصے میں ہیں، رہی وہ بات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمائی تو وہ تہائی کے ساتھ مقرر نہیں تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20052]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20053
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَقِيلَ: عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ. وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَالْأَوَّلُ مُخْتَلَفٌ فِي إِسْنَادِهِ، وَلَا يَثْبُتُ مَوْصُولًا، وَلَا يَصِحُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ فَأَبُو لُبَابَةَ إِنَّمَا أَرَادَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ شُكْرًا لِلَّهِ تَعَالَى حِينَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمْسِكَ بَعْضَ مَالِهِ كَمَا قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّهُ نَذَرَ شَيئًا، أَوْ حَلَفَ عَلَى شَيْءٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، جب ان کی توبہ قبول کی گئی: اے اللہ کے رسول! میں اپنا مال صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا بعض مال روک لو، یہ تیرے لیے بہتر ہے۔“
یہ حدیث صحیح ہے، جبکہ پہلی روایت کی سند میں اختلاف ہے، وہ موصولاً ثابت نہیں اور اس مسئلے میں اس سے استدلال درست نہیں۔ ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اپنا مال اللہ کے راستے میں دینا چاہا تو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنا سارا مال دینے سے روکا تھا، اسی طرح ابولبابہ رضی اللہ عنہ کو بھی روکا۔ ہمیں یہ بات نہیں پہنچی کہ انہوں نے کوئی نذر مانی ہو یا کسی چیز پر قسم اٹھائی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20053]
یہ حدیث صحیح ہے، جبکہ پہلی روایت کی سند میں اختلاف ہے، وہ موصولاً ثابت نہیں اور اس مسئلے میں اس سے استدلال درست نہیں۔ ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اپنا مال اللہ کے راستے میں دینا چاہا تو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنا سارا مال دینے سے روکا تھا، اسی طرح ابولبابہ رضی اللہ عنہ کو بھی روکا۔ ہمیں یہ بات نہیں پہنچی کہ انہوں نے کوئی نذر مانی ہو یا کسی چیز پر قسم اٹھائی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20053]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20054
وَأَمَّا الْمَذْهَبُ الثَّالِثُ: فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي حَاضِرٍ ⦗١١٧⦘ قَالَ: حَلَفَتِ امْرَأَةٌ مِنْ آلِ ذِي أَصْبَحَ فَقَالَتْ:" مَالُهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَجَارِيَتُهَا حُرَّةٌ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ كَذَا وَكَذَا" لِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ زَوْجُهَا، فَحَلَفَ زَوْجُهَا أَنْ لَا يَفْعَلَهُ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَقَالَا:" أَمَّا الْجَارِيَةُ فَتَعْتِقُ، وَأَمَّا قَوْلُهَا: مَالِي فِي سَبِيلِ اللهِ، فَتَصَدَّقُ بِزَكَاةِ مَالِهَا. كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مَا دَلَّ عَلَى جَوَازِ التَّكْفِيرِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي مَعْنَاهُ مَذْهَبٌ آخَرُ.
تیسرا مذہب اس روایت میں ہے: عثمان بن ابی حاضر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آلِ ذی اصبح کی ایک عورت نے قسم کھائی، کہنے لگی: اس کا مال اللہ کے راستے میں ہے، اس کی لونڈی آزاد ہے، اگر اس نے یہ کام نہ کیا، ایسی بات کے لیے جسے اس کا خاوند ناپسند کرتا تھا، اور اس کے خاوند نے قسم اٹھائی کہ وہ یہ کام نہ کرے گا۔ اس کے متعلق سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: لونڈی آزاد ہے، لیکن اس کے مال کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔
اس روایت میں اسی طرح ہے، اور ہم نے سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وہ روایت بھی نقل کی ہے جو کفارہ کے جواز پر دلالت کرتی ہے، واللہ اعلم۔ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں ایک اور مذہب بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20054]
اس روایت میں اسی طرح ہے، اور ہم نے سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وہ روایت بھی نقل کی ہے جو کفارہ کے جواز پر دلالت کرتی ہے، واللہ اعلم۔ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں ایک اور مذہب بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20054]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20055
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ ابْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ رَجُلٍ عَلَيْهِ مِائَةُ بَدَنَةٍ إِنْ كَلَّمَ أَخَاهُ؟ قَالَ:" يَهْدِي ثَلَاثِينَ بَدَنَةٍ، وَيُكَلِّمُ أَخَاهُ".
ابو جویریہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں سنا جس کے ذمے سو اونٹ تھے، اگر وہ اپنے بھائی سے کلام کرے کہ وہ تیس اونٹ قربان کرے اور اپنے بھائی سے کلام کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20055]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح