السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4020. -- باب: ما يقضي به القاضي ويفتي به المفتي، فإنه غيرجائز له أن يقلد أحدا من أهل دهره، ولا أن يحكم أو يفتي بالاستحسان
-- باب: قاضی کے فیصلے اور مفتی کے فتوے کا بیان، ان کے لیے اپنے زمانے کے کسی شخص کی تقلید کرنا یا استحسان کی بنیاد پر فیصلہ دینا یا فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20344
وَرَوَاهُ شُعْبَةُ،، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، بِمَعْنَاهُ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْقُهُسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَهُ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20344]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20345
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ، أَنَّهُ قَامَ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَقَالَ:" يَا ابْنَ عَمِّي، أُكْرِهْنَا عَلَى الْقَضَاءِ"، فَقَالَ زَيْدٌ:" اقْضِ بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللهِ، فَفِي سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَادْعُ أَهْلَ الرَّأْيِ، ثُمَّ اجْتَهِدْ وَاخْتَرْ لِنَفْسِكَ، وَلَا حَرَجَ".
مسلمہ بن مخلد سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے میرے چچا زاد! ہم فیصلوں پر مجبور کر دیے گئے ہیں، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کتاب اللہ کے موافق فیصلہ فرمائیں۔ اگر کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو پھر سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے موافق فیصلہ کرنا، وگرنہ اہل الرائے کو بلا کر مشورہ کریں، پھر اجتہاد کریں اور اپنی رائے کو اختیار کر لیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20345]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20346
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ هُوَ فِي كِتَابِ اللهِ قَالَ بِهِ، وَإِذَا لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللهِ وَقَالَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللهِ، وَلَمْ يَقُلْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ بِهِ، وَإِلَّا اجْتَهَدَ رَأْيَهُ".
عبیداللہ بن ابی یزید فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، جب ان سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا اور وہ قرآن میں موجود ہوتی تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے، اگر قرآن میں نہ ہوتی تو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے موافق فیصلہ فرماتے، اگر نہ قرآن میں ہوتی اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہوتی لیکن سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے فرمائی ہوتی تو اسی کے مطابق فرماتے، وگرنہ اپنا اجتہاد فرماتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20346]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20347
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا فَقَالَ:" هَذَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ:" الْفَهْمَ الْفَهْمَ فِيمَا يَخْتَلِجُ فِي صَدْرِكَ مِمَّا لَمْ يَبْلُغْكَ فِي الْقُرْآنِ وَالسُّنَّةِ، فَتَعَرَّفِ الْأَمْثَالَ وَالْأَشْبَاهَ، ثُمَّ قِسِ الْأُمُورَ عِنْدَ ذَلِكَ، وَاعْمِدْ إِلَى أَحَبِّهَا إِلَى اللهِ، وَأَشْبَهِهَا فِيمَا تَرَى".
ادریس اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ نے ایک خط دیا کہ یہ خط سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے نام ہے۔ انہوں نے حدیث ذکر کی، اس میں ہے: سمجھو! خوب سمجھو! جو معاملہ تمہارے دل میں شکوک و شبہات پیدا کر دے اور وہ قرآن و سنت میں بھی موجود نہ ہو تو اس طرح کے معاملات کو پہچاننے کی کوشش کرو، پھر معاملات کو قیاس کر لو اور اس کا قصد کرو جو اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو اور اس کے زیادہ مشابہ ہو جو تمہاری رائے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20347]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 20283»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20348
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي ⦗١٩٨⦘ الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ:" كَتَبَ كَاتَبٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" هَذَا مَا أَرَى اللهُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ"، فَانْتَهَرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ:" لَا، بَلِ اكْتُبْ:" هَذَا مَا رَأَى عُمَرُ"، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنْ عُمَرَ".
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کاتب نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے لکھا: یہ وہ ہے جو اللہ نے امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دکھایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ڈانٹا اور فرمایا: لکھو یہ عمر رضی اللہ عنہ کی رائے ہے۔ اگر یہ درست ہو تو اللہ کی جانب سے ہے، اگر غلط ہو تو عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20348]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20349
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالُ:" أَلَا لَا يُقَلِّدَنَّ رَجُلٌ رَجُلًا دِينَهُ، فَإِنْ آمَنَ آمَنَ، وَإِنْ كَفَرَ كَفَرَ، فَإِنْ كَانَ مُقَلِّدًا - لَا مَحَالَةَ - فَلْيُقَلِّدِ الْمَيِّتَ، وَيَتْرُكَ الْحِيَّ، فَإِنَّ الْحِيَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ".
عبدہ بن ابی لبابہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: کوئی آدمی دین میں کسی کی تقلید نہ کرے کہ اگر وہ ایمان لائے تو دوسرا بھی ایمان لے آئے اور اگر وہ کفر کرے تو وہ بھی کفر کرے۔ اگر کوئی تقلید کرنا چاہے تو مردہ لوگوں کی تقلید کرو اور زندہ کو چھوڑ دو؛ کیونکہ یہ فتنے سے محفوظ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20349]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20350
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ غُطَيْفٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي عُنُقِي صَلِيبٌ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" {اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ} [التوبة: ٣١] "، قَالَ: قُلْتَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ قَالَ:" أَجَلْ، وَلَكِنْ يُحِلُّونَ لَهُمْ مَا حَرَّمَ اللهُ، فَيَسْتَحِلُّونَهُ، وَيُحَرِّمُونَ عَلَيْهِمْ مَا أَحَلَّ اللهُ، فَيُحَرِّمُونَهُ، فَتِلْكَ عِبَادَتُهُمْ لَهُمْ".
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میری گردن میں سونے کی صلیب تھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ فرما رہے تھے: ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ﴾ [سورة التوبة: 31] ”انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علما اور راہبوں کو رب بنا لیا۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ ان کی عبادت نہ کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! لیکن وہ ان کے لیے حلال قرار دیتے جس کو اللہ نے ان کے لیے حرام قرار دیا، اور وہ ان پر حرام قرار دیتے جو اللہ نے ان کے لیے حلال قرار دیا، یہی ان کی عبادت تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20350]
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ ان کی عبادت نہ کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! لیکن وہ ان کے لیے حلال قرار دیتے جس کو اللہ نے ان کے لیے حرام قرار دیا، اور وہ ان پر حرام قرار دیتے جو اللہ نے ان کے لیے حلال قرار دیا، یہی ان کی عبادت تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20350]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20351
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: سُئِلَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ:" {اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونَ اللهِ} [التوبة: ٣١] ، أَكَانُوا يُصَلُّونَ لَهُمْ؟" قَالَ:" لَا، وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا يُحِلُّونَ لَهُمْ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِمْ، فَيَسْتَحِلُّونَهُ، وَيُحَرِّمُونَ عَلَيْهِمْ مَا أَحَلَّ اللهُ لَهُمْ، فَيُحَرِّمُونَهُ، فَصَارُوا بِذَلِكَ أَرْبَابًا". لَفْظُ حَدِيثِ زَائِدَةَ.
ابوبختری فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ﴾ [سورة التوبة: 31] ”انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کو چھوڑ کر رب بنا لیا“ کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا وہ ان کے لیے نماز پڑھتے تھے؟ فرمایا: نہیں۔ لیکن وہ ان کے لیے حلال قرار دیتے جو اللہ نے ان پر حرام کر دیا اور حرام قرار دیتے جو اللہ نے ان پر حلال قرار دے دیا۔ اس وجہ سے وہ رب بن گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20351]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف