السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4127. -- باب:: ما جاء في ذم الملاهي من المعازف والمزامير ونحوها
-- باب: آلاتِ موسیقی جیسے باجوں، بانسریوں اور اس طرح کے دیگر لہو و لعب کے آلات کی مذمت میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 20996
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّالَحِينِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ رَبِّي حَرَّمَ عَلَيَّ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْقِنِّينَ وَالْكُوبَةَ". قَالَ أَبُو زَكَرِيَّا: الْقِنِّينُ: الْعُودُ.
قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے رب نے میرے اوپر شراب، جوا اور طبل وغیرہ کو حرام قرار دیا۔“ ابو زکریا «الْقِنِّينَ» کا معنی لکڑی کا کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20996]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20997
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْغُدَانِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ، مِزْمَارًا قَالَ: فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ، وَنَأَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَقَالَ لِي:" يَا نَافِعُ هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا؟"، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَرَفَعَ إِصْبَعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ وَقَالَ:" كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَ مِثْلَ هَذَا، فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا. وَفِي رِوَايَةِ الْقَاضِي قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَسَمِعَ زَمْرَ رِعَاءٍ، فَتَرَكَ الطَّرِيقَ وَجَعَلَ يَقُولُ:" هَلْ تَسْمَعُ؟"، قُلْتُ: لَا، ثُمَّ عَارَضَ الطَّرِيقَ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ".
نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے گانے کی آواز سنی تو اپنی انگلیاں کانوں میں لے لیں اور راستے سے ایک طرف چلے گئے اور مجھ سے کہا: ”اے نافع! کیا کچھ سن رہے ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ تب انہوں نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں۔ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گانے کی آواز سنی تو اس طرح کیا تھا۔
(ب) قاضی کی روایت میں ہے کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا۔ انہوں نے گانے کی آواز سنی تو راستہ چھوڑ دیا اور مجھ سے کہنے لگے: ”کیا سن رہے ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ پھر راستے کی طرف واپس آئے۔ پھر فرمانے لگے: ”اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20997]
(ب) قاضی کی روایت میں ہے کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا۔ انہوں نے گانے کی آواز سنی تو راستہ چھوڑ دیا اور مجھ سے کہنے لگے: ”کیا سن رہے ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ پھر راستے کی طرف واپس آئے۔ پھر فرمانے لگے: ”اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20997]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20998
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا نَافِعٌ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ ابْنِ عُمَرَ، إِذْ مَرَّ بِرَاعٍ يَزْمُرُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے سواری پر تھا، اچانک ایک چرواہا میرے پاس سے گزرا جو گانا گا رہا تھا، اس طرح انہوں نے بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20998]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20999
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مَيْمُونٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَسَمِعْتُ صَوْتَ، مِزْمَارٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
نافع فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، میں نے گانے کی آواز سنی۔ پھر اسی طرح بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20999]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21000
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْكُوفِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" الدُّفُّ حَرَامٌ، وَالْمَعَازِفُ حَرَامٌ، وَالْكُوبَةُ حَرَامٌ، وَالْمِزْمَارُ حَرَامٌ".
ابو ہاشم کوفی رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ دف حرام ہے، باجے حرام ہیں، طبلہ حرام ہے اور بانسری حرام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21000]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21001
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ فِي الْقُرْآنِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} [المائدة: ٩٠] قَالَ:" هِيَ فِي التَّوْرَاةِ: إِنَّ اللهَ أَنْزَلَ الْحَقَّ لِيُذْهِبَ بِهِ الْبَاطِلَ، وَيُبْطِلَ بِهِ اللَّعِبَ وَالزَّفْنَ وَالْمِزْمَارَاتِ وَالْمَزَاهِرَ وَالْكِنَّارَاتِ". زَادَ ابْنُ رَجَاءٍ فِي رِوَايَتِهِ:" وَالتَّصَاوِيرَ وَالشِّعْرَ وَالْخَمْرَ، فَمَنْ طَعِمَهَا أَقْسَمَ بِيَمِينِهِ وَعِزَّتِهِ: لَمَنْ شَرِبَهَا بَعْدَمَا حَرَّمْتُهَا لَأُعَطِّشَنَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ تَرَكَهَا بَعْدَمَا حَرَّمْتُهَا سَقَيْتُهُ إِيَّاهَا مِنْ حَظِيرَةِ الْقُدُسِ" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَوْلُهُ: الْمَزَاهِرُ، وَاحِدُهَا مِزْهَرٌ وَهُوَ الْعُودُ الَّذِي يُضْرَبُ بِهِ، وَأَمَّا الْكِنَّارَاتُ فَيُقَالُ: إِنَّهَا الْعِيدَانُ أَيْضًا، وَيُقَالُ: بَلِ الدُّفُوفُ، وَأَمَّا الْكُوبَةُ يَعْنِي الْمَذْكُورَةَ فِي خَبَرٍ آخَرَ مَرْفُوعٍ فَإِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ كَثِيرٍ أَخْبَرَنِي أَنَّ الْكُوبَةَ النَّرْدُ فِي كَلَامِ أَهْلِ الْيَمَنِ، وَقَالَ غَيْرُهُ: الطَّبْلُ قَالَ الشَّيْخُ:.
عطا بن یسار رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے قرآن کی اس آیت ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ [سورة المائدة: 90] کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ: ”اے ایمان والو! شراب، جوئے، بت، پانسے کے تیر ناپاک کام شیطان کے اعمال میں سے ہیں، ان سے بچو تاکہ تم نجات پا جاؤ۔“
فرماتے ہیں کہ توراۃ میں ہے کہ اللہ نے حق کو نازل کیا، تاکہ باطل ختم ہو جائے اور وہ کھیلوں، گانے بجانے کے آلات اور ڈھول بجانے والی لکڑیوں وغیرہ کو بھی باطل قرار دے دیا۔
(ب) ابن رجاء کی روایت میں ہے کہ: ”تصویریں، اشعار، شراب، وغیرہ جس نے لالچ کرتے ہوئے ان کو پیا، مجھے میری عزت کی قسم! میں اس کو قیامت والے دن پیاسا رکھوں گا اور جس نے اس کی حرمت کے بعد نہ پیا تو اس کو «حَظِيرَةِ الْقُدُسِ» ”حظیرۃ القدس“ سے پلاؤں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21001]
فرماتے ہیں کہ توراۃ میں ہے کہ اللہ نے حق کو نازل کیا، تاکہ باطل ختم ہو جائے اور وہ کھیلوں، گانے بجانے کے آلات اور ڈھول بجانے والی لکڑیوں وغیرہ کو بھی باطل قرار دے دیا۔
(ب) ابن رجاء کی روایت میں ہے کہ: ”تصویریں، اشعار، شراب، وغیرہ جس نے لالچ کرتے ہوئے ان کو پیا، مجھے میری عزت کی قسم! میں اس کو قیامت والے دن پیاسا رکھوں گا اور جس نے اس کی حرمت کے بعد نہ پیا تو اس کو «حَظِيرَةِ الْقُدُسِ» ”حظیرۃ القدس“ سے پلاؤں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21001]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21002
وَرَوَاهُ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ:" إِنَّ فِيمَا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مُوسَى: إِنَّا أَنْزَلْنَا الْحَقَّ لِنُبْطِلَ بِهِ الْبَاطِلَ، وَنُبْطِلَ بِهِ اللَّعِبَ وَالْمَزَامِيرَ وَالْكِنَّارَاتِ وَالشِّعْرَ وَالْخَمْرَ، فَأَقْسَمَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ: لَا يَتْرُكُهَا عَبْدٌ خَشْيَةً مِنِّي إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنْ حِيَاضِ الْقُدُسِ. قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ: سَأَلْتُ أَبَا مَوْدُودٍ: مَا الْمَزَامِيرُ؟ قَالَ: الدُّفُوفُ الْمُرَبَّعَةُ، فَقُلْتُ: مَا الْكِنَّارَاتُ؟ قَالَ: الطَّنَابِيرُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ شَعْثَمُ بْنُ أَصِيلٍ الْعِجْلِيُّ إِمْلَاءً بِجَنْجَرُوذَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو مَوْدُودٍ الْمَدَنِيُّ فَذَكَرَهُ مَعَ التَّفْسِيرِ.
عطاء بن یسار رحمہ اللہ کعب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا: ”ہم حق کو نازل ہی اس لیے کرتے ہیں تاکہ باطل ختم ہو جائے اور ہم کھیلوں، گانے بجانے کے آلات، اشعار اور شراب کو بھی باطل کر دیں، میرے رب نے قسم اٹھائی ہے کہ جو بندہ میرے حکم کی وجہ سے ان کو ترک کر دے گا، میں اس کو پاکیزہ حوضوں سے پلاؤں گا۔“ زید بن حباب کہتے ہیں: میں نے ابو مودود سے سوال کیا کہ «الْمَزَامِيرُ» کیا ہوتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”مربع شکل کی دف۔“ میں نے کہا: «الْكِنَارَاتُ» کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”لکڑیاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21002]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح